شادی بچانے کے لیے تشدد و تضحیک برداشت کرتی رہی، متھیرا

ماڈل، اداکارہ و میزبان متھیرا نے کہا ہے کہ شادی کو بچانے کے لیے نہ صرف انہوں نے گھر اور شوہر کے وہ کام بھی کیے جو انہیں نہیں کرنے چاہیے تھے بلکہ وہ تشدد اور تضحیک بھی برداشت کرتی رہیں۔ ماڈل و اداکارہ حال ہی میں اے آر وائے کے پروگرام ’ہمارے مہمان‘ میں شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے پہلی بار اپنی طلاق سے متعلق کھل کر کچھ باتیں کیں، تاہم اس کے باوجود انہوں نے کئی باتوں کو ذاتی مسئلہ قرار دے کر انہیں خفیہ رکھنا ہی پسند کیا۔ متھیرا نے اپنے خاندان سے متعلق بھی کچھ گفتگو کی، تاہم ساتھ ہی کہا کہ وہ خود عوامی شخصیت ہیں مگر انہوں نے ہمیشہ اپنے اہل خانہ کو نجی رکھا اور وہ ان سے متعلق باتیں نہیں کر سکتیں۔ اداکارہ و میزبان کے مطابق پاکستانی معاشرہ اتنی برداشت ہی نہیں رکھتا کہ وہ اپنے خاندان کی تمام باتوں کو باہر لے آئیں۔
متھیرا نے کہا کہ اگر وہ اپنے والدین اور گھر کے کلچر کی باتیں باہر لے آئیں گی تو 10 فیصد لوگ کا ساتھ دیں گے، باقی 90 فیصد ان پر ملامت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ زمبابوے سے پاکستان منتقل ہونے کے بعد انہیں زبان اور یہاں کی روایات کا علم نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا رہا۔ متھیرا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کسی بھی شخص کو ’جانو‘ یا ’ڈارلنگ‘ کہو تو اس کا مطلب ہی غلط سمجھا جاتا ہے اور یہاں کے لوگ لباس کے معاملات کو بھی نہیں سمجھ پاتے۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ وہ بھی عام شوبز خواتین کی طرح ٹی شرٹ پہنتی ہیں مگر ان کے پہننے سے لوگوں کو زیادہ مسئلہ ہوتا ہے اور ان سے متعلق زیادہ نازیبا باتیں کی جاتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ پاکستانی فیشن ڈیزائنرز کا لباس پہنتی ہی نہیں ہیں۔ متھیرا نے پروگرام میں شادی سے متعلق بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہوں نے شوہر سے جذباتی پیار کیا اور اپنے پیار و شادی کو بچانے کے لیے انہوں نے تشدد اور تضحیک بھی برداشت کی۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوہر سے اتنا پیار کیا کہ وہ یہ ماننے کو بھی تیار نہ تھیں کہ شوہر ان سے پیار ہی نہیں کرتے۔ انہوں نے شادی شدہ زندگی پر بات کرتے ہوئے شوہر کے والدین اور خصوصی طور پر والدہ کے رویے پر بات کی اور کہا کہ ماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ بیٹے کی شادی کا مطلب اسے کھو دینا نہیں ہوتا۔ متھیرا نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر مائیں اس خوف کا شکار ہیں کہ شادی کے بعد وہ بیٹے کو کھو دیں گی لیکن ایسا نہیں ہوتا اور جب مائیں اسی خوف کا شکار بن جاتی ہیں تو وہ مسائل پیدا کرنے لگتی ہیں۔ ماڈل و اداکارہ کے مطابق جب انہوں نے شادی کی تو انہوں نے منصوبے سے ہٹ کر گھر کے کام کیے اور انہوں نے پہلے ہی سوچ رکھا تھا کہ وہ شادی کو بچانے کے لیے ہر کام کرین گی مگر بالآخر ان کی طلاق ہوگئی۔

انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ ان کی طلاق کس وجہ سے ہوئی، تاہم انہوں نے بتایا کہ شادی کو بچانے کے لیے وہ تشدد اور تضحیک بھی برداشت کرتی رہیں اور ایک طرح سے وہ ذہنی غلامی کا شکار بن چکی تھیں۔ انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ اگر کوئی تعلق یا رشتہ نہیں چل رہا اور اس میں لالچ یا ذلالت آچکی ہے تو اسے ختم کردیں، ایسا نہ سوچیں کہ مذکورہ تعلق کو ختم کرنے سے زندگی ختم ہوجائے گی۔ متھیرا کے مطابق طلاق ہوجانا یا پھر دوسری شادی کرنا غلط کام یا گناہ نہیں ہے مگر تشدد یا تضحیک برداشت کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ طلاق ہوجانے کے بعد ان کی مالی حالت خراب ہوگئی تھی اور ان کی جانب سے لوگوں سےمدد مانگنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کی گئی۔ متھیرا نے بتایا کہ مالی مشکلات کے دنوں میں وہ کئی دن تک بھوکی رہتی تھیں اور صرف دن اور رات میں ایک وقت کا کھانا کھا کر گزارا کر رہی ہوتی تھیں جب کہ ایک سے دوسری جگہ جانے کے لیے وہ رکشوں میں سفر کرنے سمیت پیدل جایا کرتی تھیں۔

خیال رہے کہ متھیرا 2004 میں افریقی ملک زمبابوے سے پاکستان آئی تھیں، ان کی پیدائش اور پرورش زمبابوے میں ہی ہوئی تھی، ان کے والد زمبابوے کے اچھے اور نامور سیاستدان ہیں۔ ان کی والدہ کا تعلق پاکستان سے ہے اور والدہ کی طلاق ہونے کے بعد وہ زمبابوے سے پاکستان آئی تھیں اور انہوں نے ٹی وی کے انٹرٹینمنٹ شوز سے میزبانی کا آغاز کیا۔ بعد ازاں انہوں نے ماڈلنگ شروع کی اور اگست 2014 میں انہوں نے پنجابی گلوکار کار فلنٹ جے سے شادی کی تھی، تاہم چار سال بعد 2018 میں ان کی طلاق ہوگئی تھی۔ انہیں ایک بیٹا بھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں