سینیئر اداکار سہیل اصغر انتقال کر گئے

سینیئر اداکار و صداکار سہیل اصغر 65 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد 13 نومبر کی دوپہر کو خالق حقیقی سے جا ملے۔ واقعہ ٹائم کے مطابق سہیل اصغر ڈیڑھ سال سے پیٹ کی مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور وقتاً بوقتاً ہسپتالوں میں زیر علاج بھی رہے مگر 13 نومبر کو ہمیشہ کے لیے مداحوں سے بچھڑ گئے۔ اداکار کی بیوہ نے مختصر بات کرتے ہوئے واقعہ ٹائم کو بتایا کہ سہیل اصغر کی نماز جنازہ 14 نومبر کو ادا کی جائے گی۔ اداکار کی بیوہ کے مطابق ڈیڑھ سال قبل سہیل اصغر کا بڑی آنت کا آپریشن بھی ہوا تھا اور اس حوالے سے اداکار نے مئی 2020 میں سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے بھی مداحوں کو بتایا تھا۔

ڈیڑھ سال قبل کامیاب آپریشن کے بعد رواں ماہ کے آغاز میں ان کی طبیعت ایک بار پھر ناساز ہوگئی تھی اور وہ گزشتہ ایک ہفتے سے ہسپتال میں داخل تھے۔ دوران علاج طبیعت مزید بگڑنے پر سہیل اصغر خالق حقیقی سے جا ملے اور ان کے انتقال پر شوبز شخصیات سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سہیل اصغر 13 نومبر کی دوپہر کو مداحوں سے بچھڑے۔ سہیل اصغر کا شمار پاکستان کے کامیاب اور بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے، انہوں نے شاندار اداکاری کی بدولت متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیے۔۔ ان کی پیدائش پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہوئی اور وہیں انہوں نے تعلیم مکمل کی، جس کے بعد وہ ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے۔

سہیل اصغر 1978 سے 1988 تک 10 سالوں تک ریڈیو جوکی (آر جے) کے طور پر کام کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے تھیٹر ڈراموں میں اداکاروں شروع کی اور پھر چھوٹی اسکرین پر جلوہ گر ہوئے۔ سہیل اصغر نے پاکستان ٹیلی وژن کے کامیاب ترین ڈراموں جیسا کہ ’لاگ‘، ’پیاس‘، ’چاند گرہن‘ اور ’کاجل گھر‘ سمیت دیگر ڈراموں میں کام کرکے نام کمایا۔ انہوں نے 2003 میں فلم ’مراد‘ کے ساتھ سینما انڈسٹری میں ڈیبیو کیا، جس کے بعد 2004 میں ان کی ایک اور فلم ’ماہ نور‘ سامنے آئی اور اس میں بھی سہیل اصغر کی اداکاری کو خوب سراہا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں