سیالکوٹ: بڑی دیگیں اور کم عمر ایشا کےہاتھ کا جادو

بڑی بڑی دیگوں پر عموماً مردوں کے ہاتھ چلتے ہيں لیکن سيالکوٹ کی 18 سالہ ایشا نے اچھے اچھوں کو پيچھے چھوڑ ديا ہے۔ ایشا جو دیگ ميں کھانا بنانے کی ماہر ہیں پہلے چھوٹے چھوٹے آرڈرز لیا کرتی تھیں لیکن اب انہوں نے بڑے آرڈرز بھی لینے شروع کردیے ہیں اور کھانوں میں لذت کے معاملے میں انہوں نے بڑے بڑے باورچيوں کو پيچھے چھوڑ دیا ہے۔

ان کے ہاتھ کا جادو پورے سيالکوٹ ميں سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کے کھانے بنا لیتی ہیں خواہ وہ کانٹیننٹل ہوں، چائینیز ہوں یا پھر دیگر۔ ایشا کے بیمار والد کو ان پر فخر ہے اور وہ انہیں دعائیں دیتے نہیں تھکتے۔ والد کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی نے انہیں کبھی بیٹے کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔

شادی کے حوالے سے ایشا کو ایک ہی فکر ہے کہ ان کا جیون ساتھی بھی ان کے والدین کی طرح کام میں سپورٹ کرے اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالے۔

ایشا کی کہنا ہے کہ زندگی کا ہمسفر کیسا ہوگا یہ تو نصیب کی بات ہے لیکن وہ چاہتی ہیں کہ جس طرح ان کے والدین کا تعاون انہیں حاصل ہے اسی طرح پکوان کا کام جاری رکھنے کے لیے ان کا ہونے والا شوہر بھی مکمل تعاون کرے تاکہ پیشہ بن جانے والا ان کا یہ شوق جاری و ساری رہے۔

سیالکوٹ کی اس نوجوان خاتون نے اپنے شوق اور لگن سے ثابت کردیا ہے کہ خواتین کسی بھی لحاظ سے کسی بھی فیلڈ میں مردوں سے کم نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں