سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخودنوٹس کيس سماعت کیلئےمقرر

سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کيس سماعت کیلئے مقررکردیا ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 10 نومبر بروزبدھ کوسماعت کرے گا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول ازخود نوٹس کيس کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد ، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین شامل ہوں گے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیئےہیں۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے بعد پاک فوج کی جانب سے ایک بریگیڈیئر سمیت 15 افسران کےخلاف محکمانہ کارروائی ہوئی اور میجر سمیت 5 افسران کو برطرف کردیا گیا۔ جوڈیشل انکوائری رپورٹ کے مطابق کرنل کاشف نے پاک فوج کی جانب سے محکمانہ کارروائیوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بریگیڈیئر اور کرنل رینک کے 2 افسران کو ترقی نہ دینے اور آئندہ حساس مقامات پر تعینات نہ کرنے کی سزا دی گئی جبکہ 1 حوالدار سمیت 5 اہلکاروں کو 28 دن تک قید بامشقت بھگتنا پڑی۔

سال 2020 جولائی میں سانحہ کی 3 ہزار صفحات پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔ سانحہ اے پی ایس کمیشن کی 3 ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ کی تیاری کے دوران کمیشن نے سانحہ میں شہید ہونیوالے بچوں کے والدین سمیت 132 افراد کے بیانات ریکارڈ کئے۔ 101 گواہان اور 31 پولیس، آرمی اور دیگر افسران کے بیانات بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ اے پی ایس کی تحقیقات سے متعلق ازخود نوٹس لیا تھا۔ سابق چیف جسٹس نے سال 2018 میں سانحہ آرمی پبلک اسکول کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا تھا اور کمیشن کی رپورٹ 2 ماہ کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سابق چیف جسٹس نے کیس کی سست روی پر نوٹس بھی لیا تھا، یہ نوٹس اس وقت لیا گیا تھا جب سپریم کورٹ پشاور رجسٹری کے باہر سانحے میں شہید بچوں کے والدین نے احتجاج کیا، مظاہرین نے چیف جسٹس سے انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین کی درخواست پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے پشاور ہائی کورٹ کے سینیر جج کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔ انکوائری کمیشن کی رپورٹ 2 ہفتے قبل سپریم کورٹ جمع کرائی تھی۔ واضح رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملہ کرکے 150 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ جس میں بڑی تعداد بچوں کی تھی، جب کہ شہداء میں ٹیچرز بھی شامل تھے۔ آرمی پبلک اسکول پر حملے میں ملوث 4 دہشت گردوں کو دسمبر 2015ء میں سزائے موت دیدی گئی۔ ان ملزمان کو ملٹری کورٹس نے سزائے سنائیں۔ جس کی اس وقت کے آرمی چیف نے توثیق کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں