سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن میں روبوٹک سرجری کا آغاز

کراچی: سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی )نے اپنے مریضوں کے علاج کے لئے روبوٹک سرجری پروگرام آغازکردیا ہے ۔ سرجری کی یہ قسم جدید ترین طریقہ علاج تصور کی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں ہسپتال میں حال ہی میں روبوٹکس کے دو نئے یونٹس کی تنصیب عمل میں آئی ہے۔
اس جدید سرجریکل نظام کو کیمبرج روبوٹکس نے تیار کیا ہے اور یہ بھارت، جنوبی امریکہ ، مشرق وسطیٰ میں سرجری کے پیچیدہ بیماریوں میں کامیابی سے استعمال ہورہی ہے۔ ادارے کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں نئی ​​سہولت کی تنصیب کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس ٹیکنالوجیکل سرجری کے نئے طریقوں کے علاج کی نئی راہیں کھلیں گی۔

اس وقت روزانہ کی بنیاد پر مریض روبوٹک کے ذریعے سرجری کے میدان میں علاج سے مستفید ہورہے ہیں۔روبوٹک سرجری کو سرجیکل سائنسز کی دنیا کا ایک انقلابی قدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس سرجری کے ذریعے مریض کو نمایاں طور پر درد میں کمی ، خون کا کم زیاں ، اور انفیکشن کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ ہسپتال سے جلد فراغت ملنے کے علاوہ روزمرہ کے کام معمول کے مطابق کئے جا سکتے ہیں۔

ایس آئی یوٹی میں نصب نئے روبوٹک نظام کے تحت رواں ماہ نومبر کی 4 تاریخ کو چند مریضوں کی سرجری کی گئی جس کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں۔اس سے قبل 2017میں ایس آئی یو ٹی نے مریضوں کی سرجری کے لئے سول ہسپتال کراچی کے تعاون سے روبوٹک سرجیکل سہولیات فراہم کر نے کا آغاز کیا تھا۔ اب ایس آئی یو ٹی میں دو نئے روبوٹک سرجیکل یونٹس کی تنصیب سے مریضوں کی ایک بڑی تعداد مستفیض ہو گی جبکہ ادارے میں لیپروسکوپک اور دیگر سرجری کے شعبہ جات کے ساتھ ساتھ شعبہ ایمرجینسی معمول کےمطابق چوبیس گھنٹے جاری رہیں گی۔

ایس آئی یو ٹی کی پریس ریلیز کے مطابق ابتدائی طور پر ورسیس روبوٹک سسٹم کو شعبہ گردہ و مثانہ کے مریض اس ٹیکنالوجی سے مستفید ہوسکیں گےجس کے بعد اس کا دائرہ ادارے کے دیگر شعبوں جن میں معدہ و جگر، شعبہ امراض نسواں، اور بڑی آنت تک بڑھا دیا جائے گا۔اس کے علاوہ علاقائی سطح پر سرجری سے وابستہ افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کے لئےایس آئی یو ٹی کے زیر اہتمام تربیتی پروگرام کا آغاز بھی جلد ہوگا۔ ایس آئی یو ٹی میں مریضوں کو تمام طبی سہولیات ادارے کے فلسفہ “مفت علاج عزت نفس اورشفقت کے ساتھ ” بغیر کسی تفریق کے بالکل مفت فراہم کی جاتی ہیں اور اس طرح آبادی کا وہ طبقہ جو معاشی طور پر کمزور ہے وہ اس جدید علاج سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں