سانحہ APS: شہید بچوں کے والدین سڑکوں پر نکل آئے

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں طالبان درندوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے سینکڑوں معصوم طلبہ کے والدین نے وزیر اعظم عمران خان کی تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات اور عام معافی کی تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ وہ سرکار کو اپنے بچوں کے خون کا سودا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اپنے شہید بچوں کی تصاویر تھامے سینکڑوں والدین نے پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کو یاد دلایا کہ ان کے بچوں کے قاتلوں کو معافی دینے کا اختیار سرکار کے پاس نہیں ہے اور نہ ہی ان خونی درندوں کو کسی بھی صورت معافی دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خون کا بدلہ خون ہے اور ان کے بچوں کے قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں پھانسی دی جائے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ ان کی حکومت کے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں اور اگر وہ کامیاب ہوگئے تو پاکستانی طالبان کو معافی دینے کا اعلان بھی کیا جا سکتا یے۔

خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کی صبح خیبر پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر تحریک طالبان کے خونی درندوں نے حملہ کر کے طلبہ اور اساتذہ سمیت 140 سے زائد افراد کو شہید کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایک نیشنل ایکشن پلان تیار کر کے تحریک طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تھا جس کی عمران خان نے تب بھی مخالفت کی۔ اور اب انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے ذریعے پاکستانی طالبان سے صلح کے مذاکرات کر رہے ہیں۔

آٹھ اکتوبر کے روز پشاور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے سینکڑوں شہید طلباء کے والدین نے عمران خان کو کوسا اور انکے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے سات برس بعد حکومت ان کے بچوں کے قاتلوں کو تختہ دار پر لٹکانے کی بجائے معافی دینے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ والدین نے سوال کیا کہ کیا دنیا کے کسی معاشرے میں بچوں کے قاتلوں کو سزا دینے کی بجائے ان سے صلح کے لئے مذاکرات کئے جاتے ہیں۔ اے پی ایس شہدا فورم کے صدر ایڈووکیٹ عجون خان نے متاثرہ والدین کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اگر شہید ہونے والے بچوں میں وزیراعظم عمران خان اور صدر عارف علوی کے بچے بھی شامل ہوتے تو پھر ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کیسے معافی دینے کی بات کرتے۔

عجون خان کا کہنا تھا کے اس سے پہلے ان کے بچوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو ریاستی ایجنسیوں کی تحویل سے فرار کروا دیا گیا تھا اور اب اس کے ساتھیوں کے ساتھ مذاکرات کیے جارہے ہیں جن کا پارلیمنٹ کو بھی پتہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پوری پارلیمنٹ نے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے مل کر نیشنل ایکشن پلان بنایا اور طالبان کے خلاف فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا تھا تو پھر اکیلا عمران خان اس فیصلے کو ریورس کرنے اور انہیں معافی دینے کا کیسے سوچ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن دہشت گردوں نے معصوم افراد کی جانیں لیں وہ معافی کے نہیں بلکہ صرف موت کے مستحق ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور حکومتی وزرا، ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں اندازہ نہیں کہ وہ تحریک طالبان کو معافی دے کر قوم کے ساتھ کتنا بڑا کھلواڑ کرنے جا رہے ہیں۔

اے پی ایس شہدا فورم کے صدر ایڈووکیٹ عجون خان نے مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹی ٹی پی کو معافی دینے کے منصوبے سے متعلق متاثرہ خاندانوں کو وضاحت دے۔انکا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی طلبا سمیت معصوم افراد کے بہیمانہ قتل میں براہ راست ملوث ہے اور عمران حکومت کو قاتلوں سے مذاکرات کا سوچنا بھی نہیں چاہیے ورنہ اس کا سخت ترین ردعمل آئے گا۔ شہدا فورم کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر دہشت گردوں کو معافی دی گئی تو متاثرہ خاندان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانیں دینے والے افراد کی قربانیوں کو نظر انداز کرنے کا ذمہ دار حکومت کی بجائے اداروں کو ٹھہرائیں گے کیوں کہ ایسا تاثر ابھر رہا ہے جیسے فوج طالبان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں