سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس کی سماعت آج ہوگی

رسائی نیوز نمائندہ خصوصی اسلام آباد:احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کیسز کی سماعت کرینگے جبکہ نواز شریف آج عدالت میں پیش ہونگے، جہاں وہ فلیگ شپ ریفرنس میں 342 کے تحت اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔ اس سے قبل تیس نومبر کو ہونے والی سماعت کے موقع پر جب پراسیکیوٹر نیب واثق ملک نے دلائل شروع کئے تو اس دوران نوازشریف روسٹرم پر آئے، انہوں نے کہا کہ وکیل صاحب کیا کہنا چاہ رہے ہیں میں سننا چاہتا ہوں-عدالت نے نواز شریف کو وضاحت سے روک دیا، معزز جج محمد ارشد ملک نے کہا کہ خواجہ حارث عدالت کو بتا دیں گے۔نیب پراسیکیوٹر نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ قطری خط سے متعلق بات کروں گا، قطری نے لکھا پاکستانی قانون کے مطابق شامل تفتیش نہیں ہوں گا، قطری نے لکھا کسی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا۔ نیب پراسیکیوٹر نے سماعت کے آغاز پر کہا کہ قطری خط سے متعلق بات کروں گا، قطری نے لکھا پاکستانی قانون کے مطابق شامل تفتیش نہیں ہوں گا، قطری نے لکھا کسی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا-انہوں نے کہا کہ قطری نے پاکستان آنے، بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کیا تھا، نوازشریف نے کہا کہ اصل میں بات اور ہے، کسی اوراندازمیں پیش کی جا رہی ہے،واثق ملک نے کہا کہ 2001 میں حسین نوازنے اپنے دادا کے تعاون سے کاروبار شروع کیا، 2006 میں العزیزیہ اسٹیل مل کو فروخت بھی کردیا گیا۔نہوں نے کہا کہ2001 میں العزیزیہ اسٹیل بنائی گئی توان کے پاکستان میں کاروبارسے مدد نہیں ملی، حسین نوازکے مطابق العزیزیہ کے لیے دبئی سے مشینری لائی گئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ایل اے کے جواب کو ایک طرف رکھ دیں، جواب ایک طرف رکھیں تو بھی ملزمان کے بیان میں کئی تضاد ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں