ریاستی حمایت یافتہ 58 فیصد ہیکنگ حملوں میں روس ملوث ہے، رپورٹ

گزشتہ برس ریاستی پشت پناہی کے ساتھ ہونے والی ہیکنگ میں سب سے زیادہ روسی ملوث تھے جنہوں نے امریکا، یوکرین، برطانیہ اور یورپی نیٹو ممالک میں شامل حکومتی اداروں اور تھنک ٹینکس کو نشانہ بنایا۔ واقعہ ٹائم میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ بات مائیکرو سافٹ نے کہی جس نے ان ہیکنگز کا سراغ لگایا۔ طویل عرصے سے پتا نہ چلنے والی سولر ونڈس ہیک کے تباہ کن اثرات نے بنیادی طور پر مائیکروسافٹ سمیت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے روسی ریاست کے حمایت یافتہ ہیکرز کی کامیابی کی شرح 30 جون کو ختم ہونے والے سال میں 32 فیصد تک بڑھ گئی ہے جبکہ گزشتہ 12 ماہ میں یہ 21 فیصد تھی۔ مائیکرو سافٹ نے اپنی سالانہ ڈیجیٹل ڈیفنس رپورٹ میں کہا کہ چین کی ریاستی حمایت یافتہ ہیکنگ کی کوششیں 10 میں سے ایک سے بھی کم ہیں لیکن وہ 44 فیصد ٹارگٹڈ نیٹ ورکس کو توڑنے میں کامیاب رہیں۔ رپورٹ میں رینسم ویئر (تاوان کیلئے ذاتی ڈیٹا چرانے کے) حملوں کو ایک سنگین اور بڑھتی ہوئی وبا قرار دیا جس کا اب تک سب سے زیادہ نشانہ بننے والا ملک امریکا ہے جو دوسرے سب سے زیادہ نشانہ بنائے گئے ملک سے 3 گنا زیادہ متاثر ہوا۔ اس کے برعکس ریاستی حمایت یافتہ ہیکنگ بنیادی طور پر قومی سلامتی، تجارتی یا اسٹریٹجک فائدے کے لیے انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے بارے میں ہے جو عام طور پر حکومتیں برداشت کرتی ہیں، امریکی سائبر آپریٹرز انتہائی ماہرین میں شامل ہیں۔

مائیکرو سافٹ کارپوریشن جو واشنگٹن میں حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے اس کی رپورٹ میں امریکی ہیکنگ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ سولر ونڈس ہیک امریکی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث تھا اور واشنگٹن کے کچھ قانون سازوں نے انتقامی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو رینسم ویئر مجرموں کے خلاف کارروائی کے لیے انتباہ جاری کیے تھے تاہم رواں ہفتے متعدد انتظامی سائبر سیکیورٹی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ انہیں اس کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ مائیکرو سافٹ ڈیجیٹل سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ کرسٹن گوڈ وین نے کہا کہ مجموعی طور پر ریاستی حمایت یافتہ ہیکنگ میں کامیابی کی شرح 10 سے 20 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 20-2019 کے عرصے میں روسی ہیک کی کوششیں 52 فیصد سے بڑھ گئیں جبکہ 30 جون کو ختم ہونے والے سال میں شمالی کوریا 23 فیصد کے ساتھ دوسرا ملک تھا جو پہلے 11 فیصد سے کم تھا جبکہ چین کا حصہ 12 سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں