روپے کی قدر دباؤ کا شکار، ڈالر کی قیمت 172 روپے تک پہنچ گئی

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 1.30 روپے کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد ڈالر کی قیمت 172 روپے تک پہنچ گئی۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ظفر پراچا نے ڈالر کی قدر میں اضافے سے متعلق کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے قرض سے متعلق پروگرام میں تاخیر کی وجہ سے روپے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف معاہدے کی تصدیق تک روپے پر دباؤ برقرار رہے گا۔ چیئرمین نے وضاحت کی کہ آئی ایم ایف فنڈز کی تصدیق کے بعد امید ہے کہ ایک ارب ڈالر موجود ہوں گے جس کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی ترسیل میں بہترہوگی۔ گزشتہ ہفتے وزیر خزانہ شوکت ترین نے اعلان کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کی بحالی کا معاہدہ طے پا گیا ہے اور رواں ہفتے کے آخر میں باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔
لیکن باضابطہ معاہدے کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔

علاوہ ازیں فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے وضاحت کی کہ ڈالر کی بڑھتی ہوئی مانگ درآمد کنندگان کی جانب سے آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدی بل ہر روز بڑھ رہا ہے اور رواں مالی سال کے اختتام تک 14 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں۔ ملک بوستان نے کہا کہ اگر ایسی صورت حال میں ڈالر کی سپلائی نہ بڑھی تو آنے والے دنوں میں روپے پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ مہینے 26 اکتوبر کو ڈالر تاریخی سطح 175 روپے تک پہپنچ گیا تھا۔

بعدازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرتے ہوئے فارن ایکسچینج فرم سے منسلک غیر قانونی طور پر افغانستان کو ڈالر بھیجنے والے 8 افراد کو گرفتار کرلیا تھا۔ ایف آئی اے کراچی ڈائیریکٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ فارن ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی وجہ سے دو ہفتوں کے دوران ڈالر کی قدر میں کمی آئی ہے ڈالر 174 سے 171 کی سطح پر آگیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا تھا کہ ایف آئی اے نے ڈالر مہنگا کرنے کے الزام میں 88 افراد کو حراست میں لے لیا، زیر حراست افراد ڈالر ذخیرہ کرنے اور اسے اسمگلنگ کرنے میں ملوث تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں