رقم کی غیرقانونی منتقلی کا الزام، راحت فتح علی خان کو بھارت میں شوکاز نوٹس

رسائی نیوزویب ڈیسک:میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی صوفی سنگر راحت فتح علی خان کو 2011 میں بھارت سے پاکستان جانے پر بھارتی ریونیو انٹیلی جنس نے دہلی ایئرپورٹ پر بغیر بتائے 1.24 لاکھ امریکی ڈالرز رکھنے کے الزام میں پکڑا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف فارن ایکسچینج مینجمنٹ ایکٹکے تحت 2014 میں اسی حوالے سے تفتیش کا آغاز ہوا تھا۔اور اب گلوکار راحت فتح علی خان کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اسی کیس میں شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے 45 روز میں جواب طلب کیاہے۔2011 میں راحت فتح علی خان نے دوران تفتیش اپنے پاس اتنی بڑی رقم کی موجودگی کا جواز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے گروپ کے ممبران کے ساتھ سفر کررہے تھے اسی وجہ سے ان کے پاس اتنی بڑی رقم تھی۔یاد رہے کہ بھارتی قوانین کے مطابق کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ 5 ہزار ڈالرز نقد اور5 ہزار ٹریولرز چیک کی صورت میں بھارت لاسکتایا لے جاسکتا ہے۔ اگر کسی کے پاس اس سے زیادہ رقم ہوتو اسے کسٹم حکام کو آگاہ کرنالازمی ہے۔ تاہم راحت فتح علی خان پر الزام تھا کہ ان کے پاس دس ہزار ڈالرز سے زیادہ رقم تھی لیکن انہوں نے کسٹم حکام سے رابطہ نہیں کیاتھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں