رحمت عالم شافع محشر ﷺ

اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو ایسا عظیم الشان مقام عطا فرمایا ہے کہ کوئی نبی یا رسول بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکا، چناں چہ اﷲ تعالٰی اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے، مفہوم: (اے پیغمبرؐ!) کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہارا سینہ کھول نہیں دیا ؟ اور ہم نے تم سے تمہارا وہ بوجھ اتار دیا ہے، جس نے تمہاری کمر دھری کر رکھی تھی۔ اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو اونچا مقام عطا کردیا ہے۔ دنیا میں کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرتا جس میں لاکھوں مساجد کے میناروں سے اﷲ کی وحدانیت کی شہادت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کے نبی ہونے کی شہادت ہر وقت نہ دی جاتی ہو اور کروڑوں مسلمان نبی اکرم ﷺ پر درود نہ بھیجتے ہوں۔ اﷲ تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ حضور اکرم ﷺ کا نام نامی اس دنیا میں لکھا، بولا، پڑھا اور سنا جاتا ہے۔

خالق کائنات نے صرف دنیا ہی میں نہیں بل کہ آپ ﷺ کو حوض کوثر عطا فرما کر قیامت کے روز بھی ایسے بلند و اعلیٰ مقام سے سرفراز فرمایا ہے جو صرف حضور اکرم ﷺ کو حاصل ہے، اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، مفہوم: (اے پیغمبرؐ!) ’’ہم نے تمہیں کوثر عطا کردی ہے۔ لہٰذا تم اپنے پروردگار (کی خُوش نُودی) کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ یقین جانو تمہارا دشمن ہی وہ ہے جس کی جڑ کٹی ہوئی ہے۔‘‘ کوثر جنّت کے اُس حوض کا نام ہے جو حضور اکرم ﷺ کے تصرف میں دی جائے گی اور آپؐ کی امت کے لوگ قیامت کے دن اس سے سیراب ہوں گے۔ حوض پر رکھے ہوئے برتن آسمان کے ستاروں کے مانند کثرت سے ہوں گے۔
اﷲ تعالیٰ نے ناصرف زمین میں بل کہ آسمانوں پر بھی اپنے حبیبؐ کو بلند مقام سے نوازا ہے چناں چہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے، مفہوم: ’’اﷲ تعالیٰ نبی پر رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ اور فرشتے نبی کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی نبیؐ پر درود و سلام بھیجا کرو۔‘‘ (الاحزاب) اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کے اس مقام کا بیان ہے جو آسمانوں میں آپ ﷺ کو حاصل ہے اور وہ یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرشتوں میں آپ ﷺ کا ذکر فرماتا ہے اور آپ ﷺ پر رحمتیں بھیجتا ہے اور فرشتے بھی آپ ﷺ کی بلندی درجات کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے زمین والوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجا کریں۔

کیسا عالی شان مقام حضور اکرم ﷺ کو ملا کہ آپؐ کا کلام اﷲ تعالیٰ کے حکم سے ہی ہوتا تھا، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ خود ارشاد فرماتا ہے، مفہوم: ’’اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔‘‘ (سورۃ النجم) حضور اکرمؐ کافروں اور مشرکوں کو ایمان میں داخل کرنے کی دن رات فکر فرماتے اور اس کے لیے ہر ممکن کوشش فرماتے، لیکن آج بعض مسلمان اپنے ہی بھائیوں کو کافر اور مشرک قرار دینے میں بڑی عجلت سے کام لیتے ہیں۔

رب العالمین نے اپنے حبیبؐ کو رحمۃ للعالمینؐ بنایا ہے۔ جسے سارے جہاں کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا ہو، اس نبی کریمؐ کی تعلیمات میں دہشت گردی کیسے مل سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے ہمیشہ امن و امان کو قائم کرنے کی ہی تعلیمات دی ہیں۔ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں، حضرت آدم علیہ السلام سے جاری نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہوگیا، اب کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے، مفہوم: (مسلمانو!) ’’محمد (ﷺ) تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اﷲ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں۔‘‘ (سورۃ الاحزاب) حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا۔‘‘ (صحیح بخاری)

حضور اکرم ﷺ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا۔ متعدد آیا ت میں اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی عالمی رسالت کو بیان کیا ہے، یہاں صرف دو آیات پیش ہیں، مفہوم: (اے رسولؐ!) ’’ان سے) کہو کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اُس اﷲ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔‘‘ (سورۃ الاعراف) اسی طرح اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے، مفہوم: (اے پیغمبرؐ!) ’’ہم نے تمہیں سارے ہی انسانوں کے لیے ایسا رسول بناکر بھیجا ہے جو خوش خبری بھی سنائے اور خبردار بھی کرے۔‘‘ (سورۃ سبا)

چوں کہ آپ ﷺ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا ہے، اس لیے آپؐ کی زندگی قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے نمونہ بنائی گئی، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ بیان فرماتا ہے، مفہوم: ’’حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اﷲ ﷺ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اُس شخص کے لیے جو اﷲ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو۔ اور کثرت سے اﷲ کا ذکر کرتا ہو۔‘‘ (سورۃ الاحزاب) حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا ہر ایک لمحہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے نمونہ ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے فرمودات پر عمل کریں۔

اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کے اسوہ میں دونوں جہاں کی کام یابی و کام رانی مضمر رکھی ہے، لہٰذا اﷲ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی اتباع کو لازم قرار دیا، فرمان الہٰی کا مفہوم ہے: (اے پیغمبرؐ! لوگوں سے) ’’کہہ دو کہ اگر تم اﷲ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اﷲ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔‘‘ (سورۃ آلعمران) اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم کی کثیر آیات میں اپنی اطاعت کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے۔ ان سب جگہوں پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ فرمانِ الٰہی کی تعمیل کرو اور ارشاد نبوی ﷺ کی اطاعت کرو۔ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت رسول اکرم ﷺ کی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔

اﷲ تعالیٰ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے، مفہوم: ’’یہ کتاب ہم نے آپؐ کی طرف اتاری ہے کہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپؐ اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘ (سورۃ النحل) ’’یہ کتاب ہم نے آپ ﷺ پر اس لیے اتاری ہے تاکہ آپؐ ان کے لیے ہر اس چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔‘‘ (سورۃ النحل) اﷲ تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں واضح طور پر بیان فرما دیا کہ قرآن کریم کے مفسر اول حضور اکرم ﷺ ہیں۔

تاریخ کے سب سے لمبے سفر ( اسراء و معراج) کا ذکر اﷲ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بیان فرمایا ہے جس میں آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی۔ مسجد حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصیٰ کے سفر کو اسراء کہتے ہیں۔ اور یہاں سے جو سفر آسمانوں کی طرف ہوا اس کا نام معراج ہے۔ اس واقعہ کا ذکر سورۂ نجم کی آیات میں بھی ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے اس موقع پر بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔

اﷲ تعالیٰ کا پیار بھرا خطاب حضور اکرم ﷺ سے ہے کہ آپؐ رات کے بڑے حصے میں نماز تہجد پڑھا کریں، مفہوم: ’’اے چادر میں لپٹنے والے! رات کا تھوڑا حصہ چھوڑ کر باقی رات میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہوجایا کرو۔ رات کا آدھا حصہ یا آدھے سے کچھ کم، یا اُس سے کچھ زیادہ۔ اور قرآن کی تلاوت اطمینان سے صاف صاف کیا کرو۔‘‘ ( سورۃ المزمل) اسی طرح سورۃ المزمل کی کی آخری آیت میں اﷲ رب العزت فرماتا ہے، مفہوم: (اے پیغمبرؐ!) ’’تمہارا پروردگار جانتا ہے کہ تم دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات (تہجد کی نماز کے لیے) کھڑے ہوتے ہو اور تمہارے ساتھیوں (صحابۂ کرامؓ) میں سے بھی ایک جماعت ایسا ہی کرتی ہے۔‘‘

اﷲ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنے حبیب ﷺ کے اخلاق کے متعلق فرماتا ہے: ’’اور یقیناً آپؐ اخلاق کے اعلیٰ درجہ پر ہیں۔‘‘ (سورۃ القلم) حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے جب آپ ﷺ کے اخلاق کے متعلق سوال کیا گیا تو آپؓ نے فرمایا: ’’آپ ﷺ کا اخلاق قرآنی تعلیمات کے عین مطابق تھا۔‘‘

اﷲ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ کے اوصاف حمیدہ بیان فرمائے ہیں۔ آپ ﷺ ناصرف اپنے زمانے کے لوگوں کے لیے بل کہ قیامت تک آنے والے تما م انسانوں کے لیے نبی و رسول ﷺ بناکر بھیجے گئے ہیں، اور نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم کردیا گیا ہے، یعنی اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا، یہی شریعت محمدیؐ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ غرض یہ کہ آپ ﷺ کو عالمی رسالت سے نوازا گیا ہے۔ اتنے عظیم و بلند مقام پر فائز ہونے کے باوجود آپؐ کو مختلف طریقوں سے ستایا گیا، آپ ﷺ کی زندگی کا بیشتر حصہ تکالیف میں گزرا، مگر آپ ﷺ نے کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا، آپ ﷺ رسالت کی اہم ذمے داری کو استقامت کے ساتھ بہ حسن خوبی انجام دیتے رہے۔ آپ ﷺ کی عبادات، معاملات، اخلاق اور معاشرت سارے انسانوں کے لیے نمونہ ہے۔ ہمیں حضور اکرم ﷺ کے اسوہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ گھریلو، ملکی یا عالمی سطح پر جیسے بھی حالات آئیں، ہم ان پر صبر کریں اور اپنے نبی کریم ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اﷲ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے حبیب محمد مصطفی ﷺ کے نقش قدم پر زندگی گزارنے والا بنائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں