ربیع الاول کی مناسبت سے شان رحمت اللعالمینؐ ویڈیو کانفرنس بڑی اہمیت کی حامل ہے وفاقی وزیر مذہبی امورو بین المذاہب ہم آہنگی کا گورنمنٹ کالج فار وومن یونیورسٹی فیصل آباد میں شان رحمت اللعالمینؐ ویڈیو کانفرنس سے خطاب

فیصل آباد۔: وفاقی وزیر مذہبی امورو بین المذاہب ہم آہنگی پیر نور الحق قادری نے کہا کہ پیغام پاکستان تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں جید علماکرام کا متفقہ ا علامیہ ہے جبکہ عشرہ شان رحمت اللعالمینؐ ؐمناناحکومت پنجاب کا اہم ترین اقدام اور ربیع الاول کے مقدس ایام کی مناسبت سے شان رحمت اللعالمینؐ ویڈیو کانفرنس ممتاز و نمایاں اہمیت کی حامل ہے جو ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اسوہ رسول ؐ کے مطابق ڈھال کر تمام مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔

بدھ کو گورنمنٹ کالج فار وومن یونیورسٹی فیصل آباد میں شان رحمت اللعالمینؐ ویڈیوکانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ عشرہ رحمت اللعالمینؐ کی تقریبات کے موقع پر پیغام پاکستان سے متعلق عوام اور خصوصاً طالبات و خواتین میں آگاہی پیدا کرکے ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ممکن بنا رہے ہیں جو رواداری اور برداشت پر مبنی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان کا متفقہ ا علامیہ آئین پاکستان کے بعد سب سے بڑا اور اہم کام ہے۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ کی سیرت طیبہ اور ان کی تعلیمات ہم سب کیلئے عملی نمونہ ہے جسے انگریزبھی رول ماڈل کا نام دیتے ہیں لہٰذاہمیں سیرت طیبہؐ کو عملی طور پر اپنی زندگیوں میں اپنانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ سیرت کا موضوع اور اس کے پہلو بہت وسعت کے حامل ہیں اوربہت سے مؤرخین محققین، غیر مسلموں، مستشرکین اور علمائے کرام نے سیرت النبی ؐ پر لکھا ہے لیکن سب نے آخر میں لکھا کہ ہم اتنا کچھ لکھنے کے باوجود اس موضوع کا نہ مکمل طور پر احاطہ کر سکے اور نہ ہی اس کا حق ادا کر سکے ہیں کیونکہ نبی آخرالزمان ؐکی تعلیمات اور سیرت طیبہ کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں جو صرف انسانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی ذی روح کیلئے رحمت اللعالمین بن کر آئے۔

انہوں نے کہاکہ سب لکھنے والوں نے یہی لکھا ہے کہ ہم نے صرف تصنیف اور تحقیق کی ہے لیکن اس موضوع کو مکمل نہیں کر سکے۔انہوں نے کہاکہ سیرتؐ کے موضوع کو جدید خطوط پر استوار کرنے سمیت اس موضوع پر محققین کو ایک نئے انداز سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔وفاقی وزیرنے کہاکہ جس طرح پہلے پتوں اور پتھر وں پر لکھا جاتا تھا اسی طرح آج ہم کمپیوٹر پر لکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت غیر ہمیں بچوں اور خواتین کے حقوق کا درس دے رہے ہیں حالانکہ ہمارے نبیؐ نے اقلیتوں کو بھی وہی حقوق دیئے جو مسلمانان عالم کیلئے تھے نیزبچوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کا مکمل مطالعہ کرنے کیلئے ہمیں سیرت النبیؐ کو دیکھنا ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ حضورؐ نے مدینہ سے باہر یہود اور غیر مسلموں سے معاہدے کئے جس میں میثاق مدینہ اعلیٰ مثال ہے نیزحضور ؐ کوجب مکہ سے نکالا گیا تو انہوں نے مشرکین مکہ کو5ہجری میں ابو سفیان کے ہاتھوں اشرفیاں بھجوائیں اسی طرح آپؐ کے اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک کے بے شمار واقعات سب کیلئے رہتی دنیا تک مشعل راہ ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کوئی بھی اپنی بیٹی کو اتنی عزت نہیں دے سکتا جتنی اللہ کے نبیؐ نے اپنی بیٹی فاطمہ کو دی۔آپؐ انہیں ہاتھ پکڑ کر لاتے، پیشانی چومتے اور اپنے پاس بٹھاتے نیزحضور ؐ نے اپنی رضائی بہن اور اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ بھی بہت احسن سلوک روا رکھا۔آپؐ نے فرمایا کہ آپ میں سے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہے وہی سب سے بہترانسان ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپؐ نے جاہلانہ اور جاگیر داری کے دور میں بھی خواتین کو وراثت میں ان کا حق دینے کا حکم دیا پھر آپؐ نے فرمایا آپ میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال سے اچھا سلوک کرے۔

اس موقع پر انہوں نے بعض دیگر واقعات کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ اگر ہم نے فلاح پانی ہے تو ہمیں اپنے پیارے نبی ؐ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔اس موقع پرصوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن پنجاب راجہ یاسر ہمایوں اور وائس چانسلرگورنمنٹ کالج فار وومن یونیورسٹی پروفیسر داکٹر روبینہ فاروق نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔کانفرنس میں یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کی سربراہان اور طالبات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں