رائے ونڈ کا سالانہ تبلیغی اجتماع

رائے ونڈ کا عالمی تبلیغی اجتماع حج بیت اللہ کے بعد مسلمانوں کا دوسرا بڑا اجتماع ہے۔ اپنا تن من دھن پیش کرکےاللہ کا پیغام پہنچانا تبلیغی جماعت کامشن ہے۔آج عالم اسلام میں مسلمانوں کے انحطاط و زوال کا سبب دینی ماحول سے علیحدگی ہے ۔ اگر دینی ماحول میں رہیں گے تو اللہ کا توکل دل میں پیدا ہوگا ۔ جب توکل دل میں اتر جائے تو بندہ اس قدر پُرسکون ہوتا ہے کہ اسے دنیا کا مشکل سے مشکل مسئلہ بھی آسان لگتا ہے۔ سکون کےلیے ہم بہترین گاڑی بنگلہ اور آسائش کی ساری چیزیں اکٹھی کرتے ہیں، مگر کیا وجہ ہے کہ رات کو نیند کی گولی کھانے کے بغیر نیند نہیں آتی۔ مخمل کے بستر پر ساری رات کروٹیں بدلتے بیت جاتی ہے، مگر سکون نہیں ملتا، اس میں کوئی دور رائے نہیں کہ پیسا اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمت ہے ،مگر ہم پیسے کے حصول کےلیے اتنا تیز دوڑتے ہیں کہ سکون کا اسٹاپ راستے میں ہی رہ جاتا ہے اور اس دوڑ کے آخر میں مختلف امراض بندے کو تحفے میں ملتے ہیں۔

قدرت ہر مزیدار چیز کے کھانے کو بریک لگا دیتی ہے، ہم مختلف انواع و اقسام کے کھانے دیکھ تو رہے ہوتے ہیں ،مگر دل کے مچلنے کے باوجود انہیں چھو نہیں سکتے، بات معمولی غور کرنے سے سامنے آجاتی ہے، مگر ہم سب کچھ جاننے کے باوجود مادیت کی طرف رواں رہتے ہیں اور اس خیال کو بھول جاتے ہیں کہ ہم نے آگے جا کراپنے رب کے حضور حساب کتاب بھی دینا ہے۔ اس لیے سکون کے حصول کےلیے دولت سے ضرورت کی حد تک ہی لگائوکافی ہے اور یہ بات اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب اللہ پر مکمل توکل پختہ ہو جائے۔

تبلیغی جماعت کے بانی حضرت مولانا محمد الیاسؒ نے توکل علیٰ اللہ پیدا کرنے پر ساری زندگی لگا دی۔ انہوں نے جب محسوس کیا کہ انسان صرف مساجد کی تقریروں اور خانقاہوں تک محدود رہ گیا ہے تو آپ نے انبیائے کرامؑ کے عمل کو آگے بڑھانے کےلیے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا۔

یہ بات ہمارے علم میں ہے کہ اللہ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرامؑ کو حق کا پیغام پھیلانے کےلیے دنیا میں بھیجا ،ان کے بعد صحابۂ کرامؓ ، تابعینؒ ، تبع تابعینؒ نے یہ سلسلہ سنبھال لیا ، مگر جب یہ سلسلہ مساجد کے خطبوں اور خانقاہوں میں حاضری تک محدود ہو گیا تو مولانا محمد الیاسؒ نے اس ترتیب کے ساتھ جماعت کا انعقاد کیا جس سے دین سینہ در سینہ ، فرد بہ فرد ہر ایک تک پہنچے۔

تبلیغی اجتماع کی تاریخ قدیم ہے، یہ1926ء کو بستی نظام الدین اولیاء سے شروع ہوا ،بستی نظام الدین میں ایک کچی سی مسجد تھی جس کا انتظام وانصرام مولانا محمد الیاسؒ کے والد مولانا محمداسماعیل ؒکے پاس تھا۔ مولانا کا طریقہ کار یہ تھاکہ جب بھی وہاں سے کوئی قافلہ گزرتا تو وہ اسے اپنی مسجد میں لے جاتے ،ان کی تواضع کرتے اور انہیں بتاتے کہ رسول کریمﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

ان کا پیغام دوسروں تک پہنچانا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس میں مضبوطی تب پیدا ہوگی، جب انہیں دوسرا مسلمان اپنی زبان کے ساتھ نرم لہجے میں پہنچائے ۔ نشر و اشاعت کے مروجہ نظام کو چھوڑ کر جب بالمشافہ دین کی بات کی جائے گی تو سننے والا ضرور متاثر ہو گا، آہستہ آہستہ یہ ترتیب ارد گرد پھیلنے لگی، مولانا محمد الیاسؒ نے اپنے والد صاحب کے عمل کو مزید آگے بڑھانے کےلیے گائوں گائوں ،قریہ قریہ،تبلیغی وفود بھیجنا شروع کر دیے۔

جو علاقے میں گشت کرتے اور لوگوں کو مسجد میں نماز پڑھنے کی تلقین کرکے ان کے دلوں کو نورِ اسلام سے منور کرتے۔ مولانا محمد الیاسؒ نے ساری زندگی اسی مشن پر گزار دی، ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند ارجمندمولانا محمد یوسف ؒ نے اس کام کو اس تیزی سے آگے بڑھایا کہ یہ پورے برصغیر میں پھیل گیا۔ تیسرے حج سے واپسی پر مولانا محمد یوسف ؒبذریعہ ٹرین رائے ونڈ سے گزرے تو فرمایا !میرا دل کہتا ہے کہ یہاں سے رشد و ہدایت کا چشمہ پھوٹے گا ۔ انہوں نے رائے ونڈ کی ایک کچی سی مسجد کو اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔

اس کے ساتھ وسیع اراضی موجود تھی۔ رائے ونڈ کے رہائشی ایک بزرگ میاں جی عبداللہ اس کے مالک تھے۔ جب انہوں نے تبلیغی درس سنے تو اس قدر متاثر ہوئے کہ ساری زمین مسجد کے نام کردی۔ پھر یہاں بہت بڑی مسجد بنائی گئی۔ جہاں 1949کو پہلا اجتماع ہوا ،جو چند ہزار نفوس پر مشتمل تھا ،آہستہ آہستہ اس میں اضافہ ہوتا گیااور اجتماعی مرکز کی جگہ کم پڑ گئی، جس پرتبلیغی جماعت نے سندر روڈ پر وسیع و عریض قطعہ اراضی پر اجتماع کو منتقل کر دیا، یہاں بھی جگہ کی مزید ضرورت ہوئی تو ارد گرد کے لوگوں نے جگہ بیچنے سے انکار کر دیا، کیونکہ تبلیغی اجتماع کے ہر سال انعقاد پر یہ اجتماع کے ارد گرد بازار بناتے اور خوب پیسا کماتے۔

چند سال قبل اجتماع کو اسی جگہ دو حصوں میں بانٹ دیا گیا، نصف ملک کے افراد کو ایک اور نصف کو دوسرے مرحلے میں بانٹ دیا گیا ۔ اب یہ اجتماع دس روز جاری رہتا ہے، پہلے مرحلے کے تین دنوں کے بعد چار دن کا وقفہ ہوتا ہے، پھر دوسرا مرحلہ بھی تین روز کا ہوتا ہے۔ اس دفعہ اجتماع4نومبر بروز جمعرات کی شام کو شروع ہو رہا ہے ،تیسرے دن اتوار کو صبح 9بجے آخری اجتماعی دعا ہوگی۔

تبلیغی جماعت کے امیر مولانا عبدالوہاب ؒکے انتقال کے بعد مولانا نذر الاسلام نے انتظام و انصرام سنبھالا ہوا ہے ،تا ہم ابھی تک نئے امیر کا اعلان نہیں کیا گیا اور آٹھ علمائے کرام کی مجلس شوریٰ بنائی گئی ہے، جو تمام فیصلے کرتی ہے۔ آئیے ہم بھی اس پاک مشن میں شامل ہو کر اپنا فرض ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں