دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر کا کیرالہ کے تعلیمی بورڈ پر ’مارکس جہاد‘ کرنے کا الزام، ششی تھرور کی مذمت

قدامت پسند نظریے اور دائیں بازو کی سوچ رکھنے والے دہلی یونیورسٹی کے ایک ہندو پروفیسر نے انڈین ریاست کیرالہ کے طلبا اور 12ویں جماعت کے امتحانات منعقد کرنے والے ریاستی بورڈ پر ‘مارکس جہاد’ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ اساتذہ کی تنظیم نیشنل ڈیموکریٹک ٹیچرز فرنٹ کے رکن راکیش کمار پانڈے نے اپنے فیس بک پر لکھا کہ ’ایک کالج کو 20 نشستوں والے کورس میں 26 طلبہ کو داخلہ دینا پڑا کیونکہ ان سب کو کیرالہ بورڈ نے 100 فیصد نمبر دیے تھے۔ پچھلے کچھ سالوں سے کیرالہ بورڈ مارکس جہاد کر رہا ہے۔’ واضح رہے کہ سو فیصد نمبر حاصل کرنا صرف کیرالہ بورڈ تک ہی محدود نہیں ہے۔ ریاست کیرالہ اور طلبہ یونین سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے پانڈے کے بیان کی مذمت کی ہے۔ کانگریس کے کیرالہ سے رکن پارلیمان ششی تھرور نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ‘جہاد’ کو ہر اس چیز کے لیے جو آپ کو پسند نہ ہو کے طور پر استعمال کرنا تمام حدوں سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رکن پارلیمنٹ جان برٹاس نے بھی اس مسئلہ کو مرکزی وزیر تعلیم کو خط لکھ کر اٹھایا۔ انڈیا کی ریاستوں میں کیرالہ میں شرح خواندگی کی شرح 94 فیصد ہے جو کہ برسوں سے ملک کی سب سے بہتر شرح ہے اور یہ ان چند ریاستوں میں سے ہے جہاں بائیں بازو کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بھی نمایاں موجودگی ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ سطح پر ایک ‘کٹ آف مارکس’ کا نظام ہے جس کہ تحت ہر کورس میں نمبروں کی کم از کم سطح طے کی جاتی ہے جو کہ داخلہ کے لیے امیدوار طالب علم کو 12ویں جماعت میں حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ پانڈے کی تنقید کا نشانہ ایسے ہی طلبہ ہیں جنھوں نے لازمی مارکس لے کر داخلہ لیا ہے جو کہ کئی کورسز میں اس سال 100 فیصد ہے۔ لیکن اعلیٰ نمبر حاصل کرنا یا کسی کورس میں نسبتاً زیادہ نشستیں حاصل کرنا صرف کیرالہ میں ہی نہیں ہوتا ہے۔ پانڈے کے تبصرے سے اختلاف کرتے ہوئے دہلی یونیورسٹی کے رامجاس کالج کے سربراہ منوج کھنہ کہتے ہیں کہ ‘ہر چند سال بعد مختلف ریاستوں سے زیادہ مارکس دکھائے دیتے ہیں اور اس بار کیرالہ سے زیادہ نمبر لیے گئے ہیں۔‘ ماضی میں راجستھان، ہریانہ اور بہار جیسی ریاستوں پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے غیر منصفانہ طریقوں کا استعمال کرتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ مختلف ریاستی بورڈز میں مارکنگ کے مختلف اصول ہیں جس کی وجہ سے ایسا ہونا یقینی ہے۔ کھنہ کہتے ہیں کہ ‘ایک بورڈ کا طریقہ کار دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ اور ہر بورڈ کی ایک مختلف پیک ہوتی ہے۔ اس کو ایک سطح پر لانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے معیاری تشخیص کی ضرورت ہو گی۔‘ لیکن کیرالہ کی اعلیٰ خواندگی کی شرح وہاں کے طلبہ کو ملک بھر کے کالجوں میں نشست حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے۔ بائیں بازو کی سٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا کے دہلی کنوینر اکھیل کے ایم بتاتے ہیں کہ کیرالہ میں 12ویں کے امتحان کے لیے تقریباً ساڑھے تین لاکھ طلبہ موجود ہوتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ریاست عام طور پر بہتر تعلیمی وسائل کی وجہ سے امتحانات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ ’مثال کے طور پر ریاستی دارالحکومت تھیروننتھاپورم ڈویژن کو ہی دیکھیں تو یہ علاقہ غیر ریاستی بورڈ جیسے کہ قومی سطح پر قائم سی بی ای میں بھی بہترین نتائج کا مظاہرہ کرتا ہے، یعنی کہ اعلیٰ نمبر حاصل کرنا کیس ایک بورڈ تک محدود نہیں ہے۔‘ یہ قابلیت تمام مسابقتی امتحانات اور داخلے میں ظاہر ہوتی ہے۔

اکھیل کے ایم نے کہا کہ ‘دہلی یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ سطح پر ہر سال تقریباً 70 ہزار طلبہ کو داخل کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ یونیورسٹی نے بھی یہ واضح کیا ہے کہ اسے کیرالہ سے تقریباً پانچ ہزار سے چھ ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور پچھلے سال ریاست سے صرف تقریباً دو ہزار طلبہ کو داخلہ ملا۔ یہ کوئی بڑا یا مشکوک تناسب نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ کیرالہ کے طلبا کے نتائج آہستہ آہستہ مزید بہتر ہو رہے ہیں۔ ‘یہ صرف اچھے نمبروں کی بات نہیں ہے۔ اگر آپ صرف پاس ہونے کی فیصد یا اعلیٰ تعلیم میں داخلہ حاصل کرنے کی فیصد پر غور کریں تو یہ طلبا قومی سطح پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔’ اس مسئلے کو اہل درخواست طالبہ کی تعداد کسی بھی کورس میں دستیاب نشستوں سے زیادہ ہونا مزید پیچیدہ بناتی ہیں۔ یہ کالجوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کی کمی جیسے عملی مسائل پیدا کرتا ہے۔ ماہرین ‘مارکس جہاد’ جیسے بیانات کو اس حقیقت سے توجہ ہٹانے کے حربے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دہلی یونیورسٹی کو بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر بہتری کی ضرورت ہے۔ اکھیل کا کہنا ہے کہ انھیں باتوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ‘وہ وقتاً فوقتاً کچھ جماعتوں کی شناخت کرتے ہیں۔ آج وہ کیرالہ ہے، کل ہریانہ تھا، کبھی راجستھان تھا اور کبھی بہار رہ چکا ہے۔’ یہ مسلئہ نظریاتی وجوہات کی بنا پر مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی ملک بھر میں نفرت پھیلا رہے ہیں۔ ’یہ کوئی ایک شخص کی زبان نہیں بلکہ ایک بڑے نظریے کا حصہ ہے۔’ کیرالہ ایک نایاب ریاست ہے جہاں بی جے پی پوری کوششوں کے باوجود بھی اپنے انتخابی مہم میں ناکام رہی ہے۔ روایتی طور پر ریاست یا تو کانگریس یا بائیں بازو کی جماعتوں کو مبتخب کرتی ہے۔ ریاست میں 1957 میں دنیا میں سب سے پہلی منتخب کمیونسٹ حکومت بنی تھی۔ دائیں بازو سے منسلک افراد میں کیراکہ کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کیرالہ سے وابستہ طلبا دیگر ریاستوں کے مقابلے میں بہتر شرح خواندگی کی وجہ سے عام نشستوں (جنرل سیٹوں) کے علاوہ معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے مخصوص نشستوں کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

انڈیا کی جنوبی ریاستوں میں شرح خواندگی ملک کی اوسط کے مقابلے میں عموماً بہتر ہے لیکن کیرالہ جنوبی ریاستوں میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ریاست کی شرح خواندگی 94 فیصد ہے جو کہ ملک میں سب سے بہتر ہے۔ کیرالہ میں پرائمری اور سیکنڈری تعلیم میں داخلہ کی شرح کی فیصد بھی 100 ہے۔ اگر ریاست کی شرح خواندگی کو معاشرے کے تناسب کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے تو وہاں عیسائیوں نے تاریخی طور پر تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد ہندو معاشرہ آتا ہے۔ مسلمانوں کی شرح میں بھی حالیہ دہائیوں میں کافی بہتری آئی ہے اور وہ اتنا ظاہر ہے کہ بعض نقاد نے اسے مشکوک نظر سے دیھکا ہے۔ جہاد لفظ کا استعمال اس شک کو ایک غیرمعمولی توجہ اور بصیرت فراہم کرتا ہے اور اس کی سوئی خاص طور پر مسلمانوں کی طرف جاتی ہے۔ انڈیا میں مسلم مردوں پر ‘لو جہاد’ یعنی ہندو عورتوں کو شادی کا لالچ دیکر بیوقوف بنانے کا الزام اب عام ہوچکا ہے، بلکہ اب تو متعدد عدالتوں نے بھی اس طرح کے الزامات کی سماعت کرنے میں دلچسپی دکھائی ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں دائیں بازو کے ماحولیاتی نظام میں مسلمانوں کے ذریعے کیے جانے والے جہاد کے الزام میں متعدد نئی شکلیں شامل ہو گئی ہیں جیسے کہ زمینی جہاد، اقتصادی جہاد، تاریخ جہاد اور میڈیا جہاد۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں