دونوں ممالک کے درمیان عوام ، دانشوروں اور میڈیا کی سطح پر رابطو ں کے فروغ سے ایک دوسرے کے بارے میں پایا جانے والا منفی تاثر زائل کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے میں بہت مدد ملے گی،افغان طلبا

اسلام آباد۔: پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم افغان طلبا و طالبات نے کہا ہے کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے مفاد میں ہے، دونوں ممالک کے درمیان عوام ، دانشوروں اور میڈیا کی سطح پر رابطو ں کے فروغ سے ایک دوسرے کے بارے میں پایا جانے والا منفی تاثر زائل کرنے اور غلط فہمیاں دور کرنے میں بہت مدد ملے گی، پاکستان افغانستان میں امن اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے، پاکستان ایک محفوظ ملک ہے اور پاکستان کے لوگ بہت ملنسار اور تعاون کرنے والے ہیں، پرسکون ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط اور مستحکم ہوں، امن دونوں ممالک کی ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے ،ہمیں مل جل کر خطہ میں امن کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار پاک افغان یوتھ فورم کےزیر اہتمام منعقدہ پاک افغان کانکلیو میں شریک افغان طالب علموں نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جو پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے طالب علم معصوم اللہ شہرانی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان برادرملک اور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔بدخشاں سے تعلق رکھنے والے سمیع اللہ نے کہاکہ انہیں اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم کے لئے سکالرشپ ملا ہے اور وہ آئی آر ڈیپارٹمنٹ میں زیر تعلیم ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان آنے سے قبل میڈیا اور سوشل میڈیا پر آنے والی خبروں کی وجہ سے میراپاکستان کے بارے میں تاثر مختلف تھا لیکن پاکستان آکر پتہ چلا ہے کہ یہاں کے لوگ بہت ملنسار اور تعاون کرنے والے ہیں جس سے میرا تاثر پہلے والے سےیکسر تبدیل ہوگیا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ میرے بہت سے پاکستانی دوست ہیں اور میں یہاں کی زندگی سے لطف اندوز ہورہا ہوں ۔ پاکستان میں زیر تعلیم افغان طالبہ شگوفہ نے کہا کہ افغانستان میں لوگ کہتے تھے پاکستان میں مت جائولیکن میں جب یہاں آئی تویہاں کا ماحول دیکھا تو میرا تاثر بدل گیا ،میں یہاں سکون سے پڑھ رہی ہوں ،دوستوں کے ساتھ باہر گھومتی پھرتی ہوں، میرے لئے پاکستان ایک محفوظ ملک ہے ۔ پاکستان میں زیر تعلیم ایک اور افغان طالب علم محمد اسحاق کا کہنا ہے کہ اصل پاکستان، میڈیا پر نظر آنے والے پاکستان سے بہت مختلف ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں پھیلائے جانے والے میڈیا پراپیگنڈا کی وجہ سے یہاں آنے سے قبل میراتاثر منفی تھا لیکن جب میں یہاں آیالوگوں سے ملاجلاتو میرا تاثر تبدیل ہوگیا۔ انہوں نے کہاکہ میری خواہش ہے دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دیا جائے جس سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان غلط فہمیاں دور ہوں گی اور یہ مزید ایک دوسرے کے قریب ہوں گے ۔ پاکستان میں اسلامی یونیورسٹی کی کمپیوٹر سائنس کی افغان طالبہ فرزانہ سروری پاکستان کے بارے میں کیا کہتی ہیں کہ جب وہ پاکستان آئی توانہیں نے زبان اور تعلیمی نظام سے متعلق بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ان کی طرح اور بہت سے افغانی طلبہ وطالبات پاکستان میں زیر تعلیم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ابتدائی دنوں میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے ان کے ہم جماعت طلبہ نے ان کی بہت مدد کی ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان افغانستان کی ترقی میں اہم کردا رادا کررہاہے اور وہ اس کے لئے پاکستان کی شکر گزار ہے ۔جامعہ قائداعظم اسلام آباد میں علامہ اقبال سکالر شپ پر زیر تعلیم افغان طالبہ سائرہ نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پرسکون اور آرام دہ ملک ہے۔ انہوں نے کہاکہ جنگ زدہ افغانستان سے جہاں ہمارے حالات خراب ہو ئے اس کے اثرات پاکستان پر بھی آئے ہیں ،امن دونوں ممالک کی ترقی وخوشحالی کی ضمانت ہے ،ہمیں مل جل کر خطہ میں امن کے فروغ کے لئے کام کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں