دورانِ حمل پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والی نینوچپ

لاس اینجس: دورانِ حمل لاتعداد پیچیدگیوں سے خواتین کا سامنا ہوتا ہے جن میں سے ایک آنول نال کا متاثرہونا بھی ہے۔ اس کے لئے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس (یوسی ایل اے) کے ماہرین نے ایک نینوآلہ تیار کیا ہے جو ایک مرض ’ پلیسینٹا ایکریٹا اسپیکٹرم ڈس آرڈر‘ کے علاج میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ آنول نال سے وابستہ یہ کیفیت جان لیوا بھی ہوسکتی ہے۔ اس میں آنول ناول بچہ دانی کی دیواروں میں اتنی گہرائی سے پیوست ہوجاتا ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد بھی جدا نہیں ہوتا۔ اس سے زچگی میں خون زیادہ بہنے لگتا ہے۔ اس موقع پر اگر ماں کا خیال نہ رکھا جائے تو اس سے اس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ ایک کم یاب کیفیت ہے اور نصف فیصد زچگیوں میں ہی اس کا سامنا ہوتا ہے۔

اس سے قبل پلیسینٹا ایکریٹا اسپیکٹرم ڈس آرڈر کی تشخیص مریضہ کی طبی تاریخ اور الٹراساؤنڈ سے مدد لی جاتی ہے۔ طبی تاریخ میں سیزیریئن آپریشن اور آنول نال کی کیفیت دیکھی جاتی ہے جبکہ اس کی تصدیق الٹراساؤنڈ سے کی جاتی ہے۔
اس ضمن میں خون کا ایک ٹیسٹ وضع کیا گیا ہے جو پرخطرکیفیاتِ حمل کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ اسے 100 سے زائد حاملہ خواتین پر آزمایا گیاہے اور 79 فیصد درستگی سے اس نے پلے سینٹا ایکریٹا کی شناخت کرلی جبکہ 93 فیصد خواتین میں منفی (یعنی مرض نہ ہونے کی) اطلاع دی۔ بلاشبہ یہ ایک اہم کامیابی ہے۔

یوسی ایل اے سے وابستہ یالڈا افشر نے کہا ہے کہ اس طرح ہم آنول نال سے وابستہ مسائل سے بہت پہلے آگاہ ہوکر نہ صرف اس کا بہتر علاج کرسکتے ہیں بلکہ زچہ و بچہ کی جان بچانے میں بھی بہت مدد ملتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ ایک جدید آلے کی بدولت ممکن ہے جسے نینو ویلکرو چپ کا نام دیا گیا ہے۔ یوسی ایل اے سے وابستہ پروفیسر یازین زو اور سیان رونگ سینگ گزشتہ 15 برس سے اس پر کام کررہے ہیں۔ پہلے اسے سرطانی رسولیوں یا خلیات کی تلاش کے لیے بنایا گیا تھا لیکن اب اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اسے ڈاکٹ ٹکٹ کی جسامت دی گئی ہے جس میں انسانی بال سے ہزار درجے باریک نینوتار لگائے گئے ہیں۔ ان تمام بالوں پر خاص خلیات پہچاننے والی اینٹی باڈیز لگائی گئی ہیں۔

یہ چپ آنول نال میں اس بیماری سے متاثرہ خلیات پہچان سکتی ہے۔ پلے سینٹا ایکریٹا کے خلیات (سیلز) ٹروفوبلاسٹ کہلاتے ہیں اور حمل ٹھہرنے کے چند دن بعد ہی بننے لگتے ہیں۔ جسے ہی خون کا نمونہ چپ پر رکھا جاتا ہے وہ ٹروفوبلاسٹ کی شناخت کرلیتا ہے۔ اس طرح مرض کی شناخت ہوتے ہی ڈاکٹر مریضہ کی بہتر دیکھ بھال کرتے ہوئے اسے اس مرض سے بچانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں