داستان لازوال

انسانی فطرت یو تو مختلف جذبوں کا امتزاج ہے مگر وہ جذبہ جو اُسے دوسروں سے ممتاز اور انسان کو انسان ہونے کا اعزاز بخشتا ہے وہ ہے ’’محبت‘‘۔ لفظ محبت سنتے ہی عام طور پر ہمارے ذہنوں میں ’’رومیو جولیٹ‘‘، ’’ہیر رانجھا‘‘، ’’سوہنی مہینوال‘‘ جیسے نام ابھرتے ہیں۔ اگرچہ محبتیں انسانوں کے درمیان پروان چھڑھنے والی خوبصورت داستانیں ہیں جو ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مگر اُن میں سے کچھ محبتیں لازوال ہونے کے اُس درجے پر ہوتی ہیں جو چند خاص روحوں کے حصے میں آتی ہیں۔ اُنہی لازوال داستانوں میں سے ایک داستان ’’عمر ماروی‘‘ کی داستان ہے، جس کو شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنے رسالے ’’شاہ جو رسالو‘‘ میں سُر ماروی کے نام سے بہترین انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

صحراءِ تھر پارکر کی آغوش میں پیدا والی حَسین دوشیزا ’’ماروی‘‘ جس کے حُسنِ بیکراں نے اُس دور کے بادشاہ ’’عمر‘‘ کی آنکھوں کو خیرہ کر دیا اور وہ اُسکی نا قابلِ تسخیر محبت میں ہمیشہ کے لیے گرفتار ہوگیا۔ اگرچہ ہر دور میں محبت کا معیار اور مزاج مختلف رہا ہے لیکن ماروی کی محبت تو اپنے وطن اور اپنی مٹی سے محبت کی اعلیٰ مثال ہے جو آج کے دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ماروی کی اپنے وطن سے محبت کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمر بادشاہ کی عیش و عشرت ہو یا قید و بند کی سختیاں ہوں، اُسے ذرا بھر بھی متاثر نہ کر سکیں اور اُس نے عمر بادشاہ کو صاف صاف کہہ دیا ’’اگر میں مرجاؤں تو مجھے میرے گھر والوں کے حوالے کر دینا اور میری ہڈیوں کو میرے وطن ’’ملیر‘‘ میں دفن کر دینا، میرے وطن کی مٹی مجھے دوبارہ زندہ کر دے گی۔

عمر بادشاہ کو ماروی کی اپنے وطن سے اتنی محبت اور تڑپ نے اُس کو رہا کرنے پر مجبور کر دیا اور پھر ماوری کی موت نے اُس کی پاکیزگی کو نہ صرف بے مثال کر دیا بلکہ اِس داستاں کو ہمیشہ کے لیے لازوال بنا دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں