خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں بدامنی کی وجہ سے متاثر معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا خصوصی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔: سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع میں بدامنی کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں، ہم وہاں معمول کی معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں، افغانستان میں امن سے وسط ایشیا تک نئی راہیں کھلیں گی جس سے خطے میں ترقی کا نیا دور آئے گا۔

بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں قبائلی اضلاع (سابق فاٹا) کی ترقی کے لیے قائم خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی نے کی۔ اجلاس میں سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے منتخب ارکان پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبہ خیبر پختونخوا میں معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور وہاں پر ترقیاتی منصوبوں اور مسائل کے حل کے لیے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے بعد سپیکر نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا کی ترقی کا معاملہ کسی حکومت اور اپوزیشن کا معاملہ نہیں ہم سب نے مل کر اس کا حل نکالنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں فاٹا میں بدامنی کی وجہ سے وہاں کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ، ہم نے اس معیشت کو بحال کرنا ہے، اس تناظر میں ہمیں افغانستان کی صورتحال کو بھی دیکھنا چاہیے، اس لیے ان مشکلات کو ختم کرنا ضروری ہے، اس سلسلے میں حکومت ، اپوزیشن اور پارٹی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچنے کی ضرورت ہے۔

سپیکر نے کہا کہ ہمیں اس علاقے کو مل کر ترقی دینی ہے اور مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نئی حکومت قائم ہوئی ہے، ہم خطے میں استحکام چاہتے ہیں، افغانستان میں امن کے بعد وسط ایشیا تک راہیں کھلیں گی جس سے خطے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور آئے گا۔

سپیکر نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے ہم 45 دنوں میں اپنی سفارشات مکمل کریں گے، یہی وجہ ہے کہ ہم نے تین گروپ تشکیل دیے ہیں اور جلد ہی اس حوالے سے بڑے کنونشن کا انعقاد بھی کریں گے، اب ہم نے یہ مسئلہ حل نہ کیا تو مستقبل میں اس کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں