خمتا کیا ہے؟

چارسدہ کی کھڈیوں پر بنایا جانے والا روایتی کھدر خمتا کہلاتا ہے‘ پشتون نوجوان اسے پشتون ڈینم کہتے ہیں‘ خوشحال خان خٹک نے خمتا کا ذکر اپنی شاعری میں کیا ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ کھدر کی صنعت پشتونوں کے طریقہ حیات پشتون ولی سے جڑی ہے اور لوگوں کو منفرد نظر آنے کے لئے پشتونوں کو چاہئے کہ وہ خمتا پہنیں‘ خدائی خدمت گار تحریک کے بانی باچہ خان اپنے کارکنوں کو ہر وقت خمتا پہننے کی تاکیدکرتے تھے‘ اس لئے اسے آجکل باچہ خانی کلاتھ بھی کہا جاتا ہے‘ یہ گرم کپڑا ہوتا ہے‘ اسے سردیوں میں پہناجاتا ہے‘ اسے پہننے کے بعد جیکٹ یا سویٹر پہننے کی ضرورت نہیں رہتی‘ یہ بغیراستری کے پہناجاسکتا ہے‘ کھڈی پر بنایاجانے والا کھدر ایک وقت طلب اور تھکادینے والا کام ہے جس میں گھر کے تمام افراد حصہ لیتے ہیں‘ پھر بھی ایک شال ایک ہفتے میں تیار ہوتی ہے‘ اس کی قیمت دھاگہ کی کوالٹی کی مناسبت سے 3 ہزار سے 10 ہزار روپے تک ہوتی ہے‘ جو لوگ ان کھڈیوں کو چلاتے ہیں اُنہیں پشتو میں شہ خیل کہاجاتا ہے‘ اب ان کھڈیوں کی جگہ مشینی پاورلومز‘ جیکارڈ نے لے لی ہے‘ دھاگہ جو پہلے خواتین گھروں میں چرخوں پر کاٹتی تھی اب ملتان‘ لاہور‘ قصور‘ منڈی بہاؤالدین اور فیصل آباد سے منگوایاجاتا ہے‘ جو شالیں بنائی جاتی ہیں اُن میں 3‘ 5‘ 7 رنگوں کی پٹیاں بنی ہوتی ہیں‘ یہ سیاہ‘ بھورے‘ سفید‘ اونٹ کی کھال کے رنگ میں دستیاب ہیں‘ یہ روایات اور جدیدیت کا شاندار امتزاج ہیں اور چارسدہ کی ا نمٹ ثقافت ہیں –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں