حکومت پنجاب ہمیں نظر انداز کر رہی ہے، مسلم لیگ (ق)

پاکستان مسلم لیگ (ق) نے ایک بار پھر موجودہ پنجاب حکومت پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکوہ کیا ہے کہ فیصلہ سازی میں پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ واقعہ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق گجرات کے چوہدری ہر وقت دستک دیتے ہیں کہ حکومت پنجاب، مسلم لیگ (ق) اور کابینہ میں اس کے وزرا کو اعتماد میں نہیں لے رہی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے بامشکل تمام متعلقہ قانون سازوں کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں اکٹھا کیا تاہم آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ کے حق سے متعلق اتحادی جماعتوں کے تحفظات پر قومی اسمبلی کا اجلاس ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ وسطی پنجاب سے پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت پی ایم ایل (ق) نے ای وی ایم پر مشاورت کے لیے کچھ وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذکورہ تجویز پر تحفظات ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات میں اتحادیوں نے شکایت کی کہ انہوں نے انتخابی اصلاحات سے متعلق تجاویز قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کرنے سے قبل ان مشاورت نہیں کی۔ وزیر اعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم سمیت دیگر اتحادیوں نے ای وی ایم اور دیگر مسائل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خدشات سے آگاہ کیا۔ مسلم لیگ (ق) کے جنرل سیکریٹری اور رکن قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ نے رواں مالی سال کے لیے وفاقی و پنجاب حکومت کے بجٹ پر بھی پارٹی کے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ جمعہ کو مسلم لیگ (ق) پنجاب کے صدر و اسپیکر صوبائی اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کی زیر صدارت پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی حالات پر کھل کر گفتگو کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

کمیٹی آج بھی ملاقات کرے گی تاکہ آئندہ کا لائحہ طے کیا جائے۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر کامل آغا نے کہا کہ ’اتحادی ہونے کے باوجود بجٹ کے دوران حکومت نے صرف اسمبلی کے اسپیکر سے بات کی اور تب انہیں ان کی حمایت کی ضرورت تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے رویے پر متعدد شکایات موصول ہوچکی ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ وہ ابھی صرف پنجاب حکومت کے خلاف تحفظات کا اظہار کررہے ہیں اور انہوں نے اب تک وفاقی حکومت کے خلاف ناراضی کا اظہار نہیں کیا ہے۔ پی ایم ایل (ق) کے رہنما نے کہا کہ پارٹی ابھی صرف پنجاب حکومت کے خلاف تحفظات کا اظہار کر رہی ہے اور اگر ان کے تحفظات پر غور نہیں کیا گیا تو وہ دیگر سیاسی اختیارات کے استعمال کے لیے آزاد ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں