حکومت پنجاب نےسعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست واپس لے لی

حکومت پنجاب نے وفاقی نظر ثانی بورڈ میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست واپس لے لی۔ سپریم کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 3 رکنی بورڈ نے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سعد رضوی سمیت نظر بند ملزمان کے معاملے پر سماعت کی۔

نظرِ ثانی بورڈ نے استفسار کیا کہ جب ہائی کورٹ نے نظر بندی کالعدم قرار دے دی ہے کی تو کس بنیاد پر نظر بندی میں توسیع مانگی جا رہی ہے؟ تاہم پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیم کے سربراہ کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست واپس لے لی۔

وفاقی نظر ثانی بورڈ نے حکم دیا کہ اگر سعد رضوی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔ یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیا تھا۔

عدالت نے سعد رضوی کے چچا امیر حسین کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا جبکہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے وکلا نے درخواست کی مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ سعد رضوی کو ان کی جماعت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے سلسلے میں ملک بھر میں دھرنوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

دھرنوں کے دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس پر حملہ کردیا تھا۔ گزشتہ برس میں فرانس میں سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔

تاہم مطالبات کی عدم منظوری پر تحریک لبیک نے 16 فروری کو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ بعدازاں مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری اور معاہدے پر عملدرآمد نہ کیے جانے پر تحریک لبیک نے 20 اپریل کو ملک گیر مظاہرے کیے تھے جس کے بعد سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نظر ثانی بورڈ نے 2 جولائی کو سعد رضوی کی نظربندی میں توسیع کے لیے حکومتی درخواست مسترد کر دی تھی۔ توسیع نہ ہونے پر سعد رضوی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 10 جولائی کو دوبارہ نظر بند کر دیا گیا تھا جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں