حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری

افغانستان کے مردم خیز خطے غزنی سے متصل وسطی ہجویرمیں ہوئی‘ آپ نے ابتدائی تعلیم غزنی میں حاصل کی اور پھر مزیدتعلیم روحانی تجربات اور تدکیہ نفس کیلئے حجاز مقدس کا سفر کیا اور شام و فلسطین کے سفر کے دوران اپنا پیرومرشد شیخ ابوالفضل محمدبن حسن کو بنایا‘ اس کے بعدآپ نے شام فلسطین‘ عراق‘ فارس‘ خراسان‘ ترکستان کا بھی دورہ کیا‘ جس کے دوران آپ نے سینکڑوں مشائخ صوفیائ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کی ذات گرامی کسی تعارف اور شہرت کی محتاج نہیں‘ آپ مرکز تجلیات منبع فیوض و برکات ہیں‘ آپ کے عرس کا 28 ستمبرکی2021 کو آخری روز ہے اور کل زندہ دلان لاہور کے لئے عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے‘ آپ کی ولادتے کرام اور علماء سے ملاقاتیں کیں اور کسب فیض کیا‘ صرف خراسان میں جن مشائخ سے آپ ملے اُن کی تعداد 300 ہے‘ ان کے بارے میں آپ اپنی کتاب کشف المحجوب میں فرماتے ہیں میں نے خراسان میں تین سو ایسے اشخاص دیکھے ہیں جن میں سے ایک دینی و روحانی عظمت میں سارے جہان کے لئے کافی ہے‘ آپ نے علم دین اور علم معرفت وسلوک میں جسے کامل پایا اُس سے فیض حاصل کیا‘ اپنے پیرومرشد کے حکم سے دین کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے آپ سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین مسعود کے ساتھ لاہور تشریف لائے‘ آپ نے لاہور شہر کے باہر دریائے راوی کے کنارے اپنا مسکن بنایا‘ مسجد خانقاہ اور مدرسے کی بنیاد رکھی آپ نے 34 سال تک تبلیغ اسلام کا کام کیا جس کی وجہ سے آپ کی حیات ظاہری لاہور کے لوگوں کے لئے سراپا رحمت ورافت تھی‘ آپ کے باطنی وروحانی فیوض و برکات آج بھی اس سرزمین کے لئے محبت‘ہمدردی اور خیرخواہی کا ذریعہ ہیں‘ پنجاب کی دینی ثقافت سے آپ کی محبت کو جدا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے‘ یہ شاید نہیں یقینا حضرت داتا گنج بخش کی گرم گستروں کا ہی فیضان ہے کہ لاہور برصغیرکے لئے قطب الارشاد‘ قطب البلاد اور مدینہ الاولیا ٹھہرا اور اپنی اسی روحانی مرکزیت کے سبب ہمیشہ مروجہ خلائک رہا‘ شیخ احمدسرہندی اپنے ایک مکتوب میں فرماتے ہیں فقیرکے نزدیک یہ شہر لاہور تمام ہندوستان کے شہروں میں قطب الارشاد کا درجہ رکھتا ہے‘ اس شہر کی خیروبرکت تمام ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہے اور اسی شہر میں دین رواج پذیرہے تو باقی علاقوں میں بھی شعائر کا رواج محقق رہے گا‘ جسسٹس ریٹائرڈ سیدامیرعلی کہتے ہیں کہ حضرت داتا گنج بخش اپنے لاہور آمد کے بعد بھاٹی دروازے کے باہر قیام فرما ہوئے‘ اہلیان علاقہ کی عقیدتیں اور ارادتیں آپ کی قیام گاہ کی طرف ہجوم کرنے لگی‘ لوگوں نے بھاٹی دروازے کا نام تبدیل کرکے ہجویری دروازہ رکھ دیا‘ صرف یہی نہیں بلکہ آج کل پورا لاہور داتا کی نگری سے موصوم ہے‘ جیسا کہ علاقہ اقبال یوں فرماتے ہیں
اے آبروئے ملت بیزا کے پاسبان
لاہور تیرے دم سے عروس البلاد ہے
صرف یہی نہیں بلکہ آپ کاملوں کے بھی رہنما ہیں آپ کی نگاہ فیض کا اظہار خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری نے بھی فرمایا کہ جب ایک بار خواجہ غریب نواز لاہور تشریف لائے اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری کے مزاراقدس پر حاضری دی اور ایک حجرے میں چالیس دن کا چلا کاٹ کر عبادت و ریاضت میں مصروف رہے تو اس دوران جو فیوض و برکات کی بارش دیکھی اس کا اندازہ خواجہ غریب نواز ہی لگاسکتے ہیں‘ جب معین الدین چشتی اجمیری چلا سے فارغ ہو کر رخصت ہونے لگے تو بے ساختہ آپ کی زبان مبارک پر بطور خاص یہ شعر جاری ہوا
گنج بخش فیص عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیرکامل کاملاں رہنما
اس مرد خدا کی زبان سے نکلا ہوا یہ شعر اس قدر زبان زد خاص و عام ہوا کہ جس کی گونج چہارسو پھیل گئی‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں