جولائی سے اکتوبر کے دوران تیل کی درآمد تقریباً دگنی ہوگئی

اسلام آباد: بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث پاکستان کا تیل اور کھانے پینے کی اشیا کے بل میں گزشتہ مالی سال ابتدائی 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) کے مقابلے رواں مالی سال کے اسی عرصے میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے 4 ماہ کے دوران مجموعی درآمدی بل 65.4 فیصد بڑھ کر 25 ارب 10 کروڑ ڈالر پر پہنچ گیا جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران اس کا حجم 15 ارب 17 کروڑ ڈالر تھا۔ تیل اور کھانے پینے کی اشیا کے درآمدی بل میں تیزی سے اضافے نے تجارتی خسارہ بڑھایا اور حکومت کے لیے بیرونی طرف سے دباؤ کا خطرہ پیدا کیا جس کے نتیجے میں گھریلو صارفین کے لیے قیمتوں میں بے مثال اضافہ ہوا۔ مذکورہ 4 ماہ کے عرصے میں تیل کا درآمدی بل 95.58 فیصد بڑھنے کے بعد 6 ارب 19 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ برس یہ 3 ارب 16 کروڑ ڈالر تھا جس سے گھریلو صارفین کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق قیمت کے اعتبار سے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں 92 فیصد جبکہ مقدار کے لحاظ سے 9.66 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح خام تیل کی درآمد قیمت کے حساب سے 84.16 فیصد بڑھی اور اس میں مقدار کے لحاظ سے 0.82 فیصد اضافہ ہوا، مائع قدرتی گیس کی قیمت میں 132 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس کی قیمت میں 34.5 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی عرصے میں اشیائے خورونوش کی درآمد کا بل گزشتہ برس کے چار ماہ کے 2 ارب 28 کروڑ ڈالر کے مقابلے 37 فیصد بڑھ کر 3 ارب 12 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔ اشیائے خورونوش کا مسلسل بڑھتا بل اور اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ حکومت کے لیے پریشانی کا ایک اور ذریعہ ہے، پاکستان نے گزشتہ مالی سال میں خوردنی اشیا کی درآمد پر 8 ارب ڈالر سے زائد خرچ کیے ہیں۔ آئندہ 4 ماہ میں اشیائے خورونوش کا درآمدی بل مزید بڑھے گا کیوں کہ حکومت نے ذخائر بڑھانے کے لیے 6 لاکھ ٹن چینی اور 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اشیائے خورونوش میں سب سے زیادہ درآمد ہونے والی شے گندم اس کے بعد چینی، خوردنی تیل، مصالحہ جات، چائے اور دالیں ہیں، خوردنی تیل کی درآمد میں قیمت اور مقدار دونوں کے لحاظ سے اچھا خاصہ اضافہ ہوا۔ چار ماہ میں پام آئل کی درآمد میں قیمت کے اعتبار سے 71.54 فیصد اضافہ ہوا اور یہ ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 66 کروڑ 29 لاکھ 60 ہزار ڈالر ہوگئی جس کی وجہ بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس کے نتیجے میں گزشتہ چند ماہ کے دوران گھریلو صارفین کے لیے تیل اور گھی کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ تاہم ایک سال قبل کے مقابلے رواں مالی سال کے 4 ماہ کے دوران سویابین تیل کی درآمد میں قیمت کے لحاظ سے 50.24 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 71.81 فیصد کمی ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں