جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت ، زمین کے استعمال میں تبدیلیوں اور جنگلی جانوروں و حشرات الارض کے ٹھکانوں کے خاتمہ سے انفیکشنز میں اضافہ ہو رہا ہے، عالمی مالیاتی فنڈ

اسلام آباد۔: جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت ، زمین کے استعمال میں تبدیلیوں اور جنگلی جانوروں و حشرات الارض وغیرہ کے ٹھکانوں کے خاتمہ سے انفیکشنز کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کی رپورٹ گزشتہ 70 سالوں کے دوران انسان نے مختلف حوالوں سے نمایاں ترقی کی ہے اور ماضی کے مقابلہ میں بہتر صحت کی سہولیات اور زائد آمدنی سے استفادہ کررہا ہے۔

اسی طرح غربت میں کمی بھی ہوئی ہے۔ ٹیکنالوجی ، جدید سائنسز اور غذائی پیداوار کے شعبہ میں ترقی سے عالمی سطح پر انسان کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ 1950 کے بعد دنیا کی معاشی ترقی میں 15 گنا اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث 1970 تا2016 عالمی سطح پر 68 اقسام سے تعلق رکھنے والے جانوروں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے۔

بین ا لحکومتی سائنس، پالیسی ، پلیٹ فارم آن بائیو ڈائیورسٹی اینڈ ایکوسسٹم سروسز کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں 18 میں سے 14 ایکو سسٹم کی خدمات میں کمی ہو رہی ہے۔ انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے قدرتی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ سے زمین کی پیداواری صلاحیتوں میں کمی ، آبی حیات اور مچھلیوں میں کمی کے ساتھ ساتھ فضلے کو جلانے سے عالمی سطح پر ایکو سسٹم متاثر ہو رہا ہے۔

آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 کی وبا نے قدرت کے ساتھ انسان کے تعلق کی پائیدار ی پر مختلف سوالات اٹھائے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت اور زمین سے پیداوار کے حصول کے طریقے میں تبدیلی کے علاوہ جنگلی حیات اور حشرات الارض کی رہائش گاہوں کے متاثرہونے سے انفیکشنز سے ہونے والے مختلف امراض کی شرح بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف نے بین الاقوامی برادری پرزور دیا ہے کہ ایکو سسٹم کے تحفظ کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں