جموں کشمیر پراقوام متحدہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی،ترجمان کا روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بریفنگ کے دوران صحافی کے سوال کا جواب

اقوام متحدہ۔: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نےکہا ہے کہ جموں کشمیر پراقوام متحدہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بیان گزشتہ روز پاکستان کی جانب سے بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کے بھارتی دعوٰی کو مسترد کرنے کے بعد دیا۔ پیر کو اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مندوب ٹی ایس تیرومورتی نے دعوی کیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ اور ناقابل انتقال حصہ ہے۔ جس کے جواب میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم کردہ متنازعہ علاقہ ہے نہ کہ یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نےروزانہ کی بنیاد پر ہونے والی بریفنگ کے دوران گزشتہ روز نیویارک میں کشمیر پر اقوام متحدہ کے موقف کے حوالے سے صحافی کے کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر پر ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں میں واضح ہے اور میں اسے بار بار نہیں دہرائوں گا لیکن ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ترجمان نے 5 اگست 2019 کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کےغیرقانونی بھارتی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے دیءے جانے والے موقف کا دوبارہ اعادہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر پر اقوام متحدہ کا موقف اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قابل اطلاق قراردادوں کے تحت ہے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے یادد لایاکہ پاکستان اور بھارت کے مابین 1972 میں دوطرفہ تعلقات بارے ہونے والے شملہ معاہدے میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ جموں کشمیر کی حتمی حیثیت کا معاملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن طریقے سے حل کیا جائےگا ۔

انہوں نے بھارت کے غیرقانونی زیر تسلط جموں کشمیر میں پابندیوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات کرنے سے گریزکریں جن سے جموں کشمیر کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہو اور جن سے علاقے میں انسانی حقوق کی صورتحال خراب ہو سکتی ہو ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں