تین انگوٹھیاں، تین سو سال (ایک حکایت)

کہتے ہیں مشہور بادشاہ نوشیروان نے ایک عالی شان محل تعمیر کروانے کی غرض سے جس مقام اور جگہ کا انتخاب کیا، وہاں ایک بڑھیا کی جھونپڑی بھی تھی۔ معماروں نے بادشاہ کے حکم پر کام شروع کردیا، لیکن جیسے جیسے محل کی عمارت تعمیر کرتے گئے اور جب اس کی وسیع چار دیواری بنانے کا موقع آیا تو جھونپڑی ان کے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔ نوشیروان کو اس کا علم ہوا تو اس نے بڑھیا کو طلب کرکے اس سے کہا، ’’جو تیری مرضی ہو تو یہ جھونپڑی مجھے دے دے، اس کے بدلے جہاں کہیں تیری خوشی ہو، محل بنوا دوں گا۔‘‘ بڑھیا نے نہایت ادب اور عاجزی سے کہا، ’’مجھے اس سے زیادہ اور کس بات کی خوشی ہوگی ہے کہ اسی جگہ رہوں تو ہر روز آپ کا دیدار کرنے کا موقع ملے گا۔‘‘ بادشاہ نے کہا۔ ’’جیسے تیری خوشی بڑھیا، میں تجھ پر اس حوالے سے کوئی جبر نہیں کرتا۔‘‘ نوشیروان کے حکم پر جھونپڑی ویسی کی ویسی ہی رہی اور محل تعمیر کرلیا گیا۔ وہ جھونپڑی اب اس عالی شان قصر کے ایک طرف وسیع باغ کے احاطے میں آچکی تھی۔ اس بڑھیا کے پاس ایک گائے تھی، وہ آتے جاتے قصر شاہی میں گندگی کرتی، لیکن نوشیروان کچھ نہ کہتا۔ اس نے پہلے بھی بڑھیا پر جبر نہیں‌ کیا تھا اور بعد میں بھی اس کی ناگوار حرکت یا نالائقی پر اسے کچھ نہ کہتا۔ وزرا اور درباری نوشیروان کے ضبط و برداشت کے قائل ہو چکے تھے۔ اس کا عدل تو مشہور ہی تھا، اب اس کی برداشت اور تحمل مزاجی بھی ان کے سامنے تھی۔
جب نوشیروان نے اس منزلِ فانی سے کوچ کیا اور اس کی وفات کے لگ بھگ تین سو سال کے بعد ایک بادشاہ کسی سبب اپنے مصاحبوں سمیت اس کی قبر پر آیا اور اس کے مرقد کو کھودا تو دیکھا کہ اس کا مردہ جسم گویا گہری نیند میں ہے، اور اس کی انگلی میں بڑی جواہر جڑی انگوٹھیاں موجود ہیں جن پر تین نصیحتیں لکھی ہوئی ہیں۔ ایک انگوٹھی پر لکھا تھا، ’’دوست دشمن سب سے دار مدار رکھو۔‘‘ دوسری پر ’’سب کام مشاورت سے کرو۔‘‘ اور تیسری پر نقش عبارت تھی ’’ قناعت پکڑو۔‘‘ تب اس بادشاہ نے اپنے وزیروں اور مصاحبوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ نوشیروان نے ان نصیحتوں پر خوب عمل کیا اور یہی وجہ ہے کہ آج تین سو برس بعد بھی ان کا عدل و انصاف اور رحم دلی مشہور ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں