تقسیم اموال: قرآنِ حکیم کی روشنی میں

اِسلام ایک کامل دِین ہے، جو زِندگی کے ہر موڑ پر انسان کی صحیح راہ نمائی کرتا ہے۔ مال و دولت اِنسان کی اہم ضرورت ہے، اسے کیسے حاصل کیا جائے؟ کون سے ذرائع اور وسائل اِختیار اور کن ذرائع سے اِجتناب کیا جائے اور مال و دولت کے حصول کے بعد اسے کیسے تقسیم اور خرچ کیا جائے۔۔۔؟ ان سب اُمور میں اِسلام ہمارِی صحیح راہ نمائی کرتا ہے۔ اگر دولت کے حصول، اُس کی تقسیم اور خرچ کرنے میں اِسلامی تعلیمات پر عمل کیا جائے تو مسلمان معاشرے میں عدل و اِنصاف، اِخلاص و محبت، ہم دردی و خیر خواہی اور اَمن و سکون کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ مال و دولت کا اِنسانی زِندگی میں کیا مقام ہے۔

قرآنِ کریم نے اموال کے بارے میں ’’قیاماً‘‘ کا لفظ اِستعمال کیا ہے، اور ’’قیام‘‘ اور ’’قوام‘‘ ایسی چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی دُوسری چیز کا وجود قائم ہو، گویا اِنسانی زِندگی کے قائم رہنے کے لیے مال و دولت ایک اَہم ذریعہ ہے۔ اس لیے اس کی حفاظت بھی لازمی ہے، اسے ایسے ہاتھوں میں نہ دِیا جائے جو اَپنی ناسمجھی اور بے وقوفی کی بنا پر اسے صحیح خرچ کرنا نہیں جانتے۔ مال و دولت اﷲ کی نعمت ہے، اِس لیے اسے بے جا خرچ کرنے سے روکا گیا ہے۔ ارشادِ باری کا مفہوم: ’’اسے بے جا اور بے موقع اُڑَایا نہ کرو، بے شک مال کو بے موقع اُڑَانے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان اَپنے رَب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل)

اس کے ساتھ ساتھ اِسلام اِس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ مال و دولت حاصل کرنے کے لیے وہی ذرائع اور اَسباب اِختیار کیے جائیں جو جائز اور مشروع ہوں اور ان جائز اور مشروع ذرائع سے حاصل شدہ روزِی اور مال و دولت کو اِسلام طیّب اور پاکیزہ روزِی سے تعبیر کرتا اور ناجائز اور غیر مشروع ذرائع سے مال و دولت کمانے کو منع کرتا ہے، اور ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ مال کو حرام اور خبیث مال سے تعبیر کرتا ہے۔ نیز قرآنِ کریم جا بہ جا جائز اور مشروع ذرائع کی طرف اِشارہ کرتا ہے اور غیر مشروع ذرائع کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔ مشروع ذرائع جیسے تجارت، صنعت و حرفت، ملازمت و مزدوری، میراث و ہدیہ وغیرہ اور ناجائز ذرائع جیسے سود، چورِی، ڈَاکا، غصب، دھوکا، جھوٹ، گناہ، معصیت وغیرہ ان ناجائز ذرائع کو قرآنِ کریم نے باطل سے تعبیر کیا ہے۔

اِرشادِ باری کا مفہوم ہے:

’’اور آپس میں ناجائز طور پر ایک دوسرے کا مال مت کھاؤ۔‘‘ (البقرہ)
جائز اور مشروع ذرائع سے مال و دولت حاصل کرنے کے بعد اسے خرچ کرنے اور تقسیم کرنے میں بھی اِسلام ہمارِی راہ نمائی کرتا ہے، کیوں کہ ایسا مال و دولت اﷲ کی دِی ہوئی نعمت ہے، اسی لیے اسے اس کی ہدایت کے مطابق خرچ کیا جائے اور خرچ کرنے میں اِعتدال کی راہ اِختیار کی جائے۔

اِرشادِ خداوندی کا مفہوم ہے:

’’اور بخل کی وجہ سے نہ تو اَپنا ہاتھ اَپنی گردن کے ساتھ باندھ کر رَکھ اور نہ اس ہاتھ کو بالکل کھول دے ورنہ تو اِلزام خوردہ اور تہی دست ہوکر بیٹھ رہے گا۔‘‘ (بنی اسرائیل) یعنی سب اِلزام دیں گے کہ کنجوس ہے یا یہ کہ اِتنا کیوں دِیا کہ آپ محتاج ہوکر رہ گیا۔ غرض یہ کہ ہر معاملے میں اِعتدال کی راہ اِختیار کی جائے اور اَپنی استطاعت اور آمدنی کے مطابق خرچ کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ کا اِرشاد ہے، مفہوم: ’’جس نے میانہ روی اِختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا۔‘‘ قرآنِ کریم نے مال و دولت میں کمانے والوں کے علاوہ دُوسروں کے بھی حقوق رکھے ہیں اور ان کے حقوق اَدا کرنے کا حکم دِیا ہے۔

اِرشادِ بارِی کا مفہوم ہے:

’’ اور دو قرابت والے کو اس کا حق اور محتاج کو اور مسافر کو۔‘‘ (بنی اسرائیل) قرابت والوں میں ماں باپ، بہن بھائی، بیوی اور اولاد وغیرہ درجہ بہ درجہ سب شامل ہیں۔ سورہ انعام میں باغات اور کھیتوں سے حاصل ہونے والے پھل اور غلہ جات میں بھی حق اَدا کرنے کا حکم دِیا گیا ہے۔

اِرشادِ بارِی کا مفہوم ہے:

’’ان سب چیزوں کے پھل کھاؤ جب یہ پھل لائیں اور ان میں سے کٹائی کے دِن مقررہ حق اَدا کردِیا کرو اور حد سے نہ بڑھو، یقین جانو کہ وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (الانعام) قرآنِ کریم میں متعدد آیات میں مال کو خرچ کرنے کا حکم دِیا گیا ہے، یہ خرچ کرنا کبھی فرض اور واجب کے درجے میں ہوتا ہے، جیسے زکوٰۃ اَدا کرنا، غلہ وغیرہ سے عشر اَدا کرنا، بیوی، بچوں، والدین اور غریب رِشتے داروں پر خرچ کرنا، قربانی، فطرہ، کفارہ وغیرہ اُمور میں صرف کرنا اور کبھی بہ طورِ نفل اور تبرع کے خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

اِرشادِ خداوندی کا مفہوم ہے:

’’تم لوگ اﷲ اور اُس کے رسول (ﷺ) پر اِیمان لاؤ اور اس مال میں سے خیرات کرو جس مال میں اﷲ نے دُوسروں کا تم کو قائم مقام کیا ہے، سو جو لوگ تم میں سے اِیمان لے آئیں اور خیرات کریں اُن کو بہت بڑا اَجر ملے گا۔‘‘ (الحدید) اس کے علاوہ اِسلام نے تقسیم میراث کا ایک عادلانہ نظام قائم کردِیا ہے کہ اَگر اس پر صحیح عمل کیا جائے اور ہر صاحب حق کو اُس کا حق دِیا جائے تو مال و دولت ایک جگہ جمع رہنے کے بہ جائے گردش میں رہتی ہے اور اس سے زیادہ سے زیادہ اَفراد فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں چاہے بڑی ہوں یا چھوٹی میراث سے محروم رہتی تھیں۔ اِسی طرح مردوں میں نابالغ بچے، جو جنگ کے قابل نہ ہوتے وہ بھی میراث سے محروم رہتے تھے، میراث کا حق صرف اُسی شخص کو تھا جو جنگ کرسکے۔ اِسلام نے اِس جاہلیت کی رسم کو ختم کرکے مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے ہر ایک کے لیے درجہ بہ درجہ میراث میں حصہ مقرر فرما دیا اور اس قانون کا اِعلان ان الفاظ میں فرمایا:

’’ماں، باپ اور قرابت دار جو ترکہ چھوڑ جائیں اُس میں سے مَردوں کا بھی حصہ ہے اور ماں، باپ اور قرابت دار جو کچھ ترکہ چھوڑ جائیں خواہ وہ کم ہو یا زیادہ اُس میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے، ہر ایک کا یہ حصہ مقرر شدہ ہے۔‘‘ (النساء) بہ ہر حال مال و دولت کو مشروع ذرائع اور وسائل سے حاصل کیا جائے اور پھر اس میں سے حقوق اﷲ اور حقوق العباد اَدا کیے جائیں تو معاشرے میں محبت، اَمن، سلامتی اور تعاون کی فضا پیدا ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں