تعمیراتی شعبے کی لاگت میں بے تحاشا اضافہ، کیا پاکستان میں سستے گھر خواب بن چکے ہیں؟

’میرا خاندان 1947 میں ہندوستان سے ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہونے سے لے کر آج تک کرائے کے گھر میں رہتا چلا آرہا ہے۔ میرے والدین نے ساری عمر کرائے کے گھر میں گزاری۔ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنے پلاٹ پر تعمیر کا کام شروع کیا تو یہ امید تھی کی جلد ہی اپنے مکان میں خاندان کے ساتھ شفٹ ہو جاوں گا۔‘ ’لیکن ایک سال میں تعمیراتی میٹریل کی قیمت میں اس قدر اضافہ ہوا کہ مجھے اب یہ کام روکنا پڑا کیونکہ گھر کی تعمیر کے لیے میں اپنی جمع پونجی لگا چکا ہوں اور اب مزید میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ فوراً اس پر کام شروع کر سکوں۔‘ یہ الفاظ کراچی میں مقیم شاید اقبال کے ہیں جن کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے اور وہ ایک نجی ادارے میں ملازمت کرتے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو میں شاہد اقبال نے بتایا کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل دوسو گز پر مکان تعمیر کرنے کا آغاز کیا۔ ان کے پاس جو جمع پونجی تھی انھوں نے اسے مکان کی تعیمر کے لیے استعمال کیا۔ ان کے تخمینے کے مطابق وہ 25 سے 30 لاکھ کے درمیان گراونڈ فلور بنا کر اس میں شفٹ ہو جائیں گے اور کرائے کے گھر سے ان کی جان چھوٹ جائے گی تاہم گذشتہ چند مہینوں میں تعمیراتی میٹریل کی لاگت اتنی زیادہ بڑھی کہ ان کے لیے مزید کام جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔ شاہد اقبال نے بتایا کہ انھوں نے اپنے پلاٹ پر گھر کی تعمیر کا کام روک دیا کیونکہ اپنے ادارے سے پراویڈنٹ فنڈ اور دوسری مد میں وہ قرضہ لے چکے ہیں اور جو کچھ ان کے پاس جمع تھا وہ بھی اس پر خرچ کر چکے ہیں۔ شاہد نے بتایا کہ وہ فی الحال کام روک کر مزید رقم کا انتظام کرنے کے لیے تگ و دو کریں گے تاکہ وہ پلاٹ پر رکے ہوئے کام کو دوبارہ سے جاری کر سکیں اور اپنا گھر ہونے کے خواب کو مکمل ہوتا دیکھ سکیں۔ تعمیراتی شعبے میں بڑھتی ہوئی لاگت سے زوہیب نامی ٹھیکیدار بھی متاثر ہیں جو چھوٹے پیمانے پر مکانوں کی تعیمر کرتے ہیں۔ زوہیب نے اس حوالے سے بتایا کہ ایک سال پہلے تعمیراتی شعبے میں لاگت 1800 روپے فی مربع فٹ تک تھی جو چھ مہینے پہلے 2500 روپے فی مربع فٹ تک بڑھائی گئی اور اب یہ لاگت 3000 روپے فی مربع فٹ تک بڑھ چکی ہے۔ انھوں نے کہا اگرچہ ان کی پہچان کے کچھ ٹھیکیدار ابھی بھی اس بڑھی ہوئی لاگت پر مکانوں کی تعیمر کر رہے ہیں تاہم ان کے لیے یہ مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ایک سال میں تعمیراتی لاگت کے بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے فی الحال مکان بنانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے اور وہ فی الحال تعمیراتی لاگت میں کمی کے انتظار میں ہیں۔ بڑے پیمانے پر تعمیراتی شعبے سے وابستہ بلڈر اور ڈیویلپر حنیف گوہر نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ انھوں نے کراچی میں ایک ہاوسنگ کا منصوبہ لانچ کیا تھا جس کے تحت انھوں نے 1500 تیار بنگلوز فروخت کرنے تھے تاہم تعمیراتی شعبے کی لاگت اتنی زیادہ بڑھی کہ انھوں نے تیار بنگلوز کا منصوبہ ترک کر کے صرف پلاٹ بیچنے کے کام آغاز کیا۔ ایک عام فرد سے لے کر ٹھیکیدار اور ڈیویلپرز تک سبھی پاکستان میں تعمیراتی شعبے میں بڑھی ہوئی لاگت کی وجہ سے پریشانی کا شکار ہیں۔ پاکستان میں جہاں کھانے پینے کی اشیا اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند سطح کو چھو رہی ہیں تو اس کے ساتھ تعمیراتی لاگت میں بے تحاشا اضافہ تعمیراتی شعبے کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے پانچ سال میں 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا تھا اور اقتدار میں آنے کے بعد تعمیراتی شعبے کی ایمنسٹی سکیم اور وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق سستے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بھی لانچ کیا۔ ان اقدامات سے تعمیراتی شعبے میں تیزی دیکھنے میں آئی تاہم ایک سال کے عرصے میں تعمیراتی لاگت میں جس قدر اضافہ ہوا اس کی وجہ سے عام فرد سے لے کر تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد سبھی فکرمندی کا شکار ہیں۔ پاکستان کے تعمیراتی شعبے نے کچھ روز قبل وزیر اعظم پاکستان کے نام اپیل ایک اخباری اشتہار کے ذریعے کی، جس میں انکشاف کیا گیا کہ اس شعبے کی لاگت میں 70 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور وزیر اعظم سے اپیل کی گئی کہ وہ اس شعبے کو بچانے کے لیے تعمیراتی میٹریل کی لاگت میں کمی لانے کے لیے اقدامات کریں۔ حنیف گوہر، جو ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیویپلرز (آباد) کے سابقہ چیئرمین رہ چکے ہیں، نے بتایا کہ اگر صحیح معنوں میں دیکھا جائے تو ایک عام فرد کے لیے یہ لاگت سو فیصد بڑھ چکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر تعمیراتی لاگت میں 70 فیصد اضافہ ہوا تو بلڈرز بھی مکانوں کی تعمیر کے لیے 30 فیصد نفع لیتے ہیں اس لیے مجموعی طور پر یہ کاسٹ سو فیصد بڑھ چکی ہے اور اس بڑھی ہوئی لاگت پر اب خریدار مکان خریدنے کو تیار نہیں انھوں نے بتایا کہ سٹیل، سیمنٹ، ماربل اور دوسرے تمام تعیمراتی میٹریل کی قیمتیں بے پناہ بڑھی ہوئی ہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت سیمنٹ کی بوری 850 روپے میں دستیاب ہے تو سٹیل کی قیمت 175000 سے 180000 ٹن تک ہے۔ سٹیل کی قیمت ایک سے ڈیڑھ سال پہلے ایک لاکھ سے ایک لاکھ پانچ ہزار ٹن تک تھی تو اسی طرح سمینٹ کی قیمت اس عرصے میں ساڑھے چار سو فی بوری سے 850 روپے فی بوری تک پہنچ چکی ہیں۔ گوہر نے بتایا کہ دوسرے تعیمراتی میٹریل جیسے ماربل، ایلومینیم اور رنگ سمیت دیگر اشیا کی قیمتیں بھی اس وقت اوپر کی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ گوہر نے بتایا کہ اگرچہ تعیمراتی شعبے کے میٹریل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے کورونا کے بعد کی صورتحال ہے جب دنیا بھر میں سٹیل اور کول اور دوسری چیزوں کی قمیتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کا اثر ملکی تعیمراتی شعبے پر بھی پڑا تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا منفی اثر تعمیراتی شعبے پر اس صورت میں پڑا کہ اس شعبے میں جو تیزی دیکھنے میں آرہی تھی اس میں اب کمی دیکھنے میں آرہی ہے کیونکہ لوگوں کی آمدنی تو پہلے والی سطح پر موجود ہے جب کہ ضروریات زندگی کی چیزوں اور مکانوں کی تعمیر کی لاگت بے تحاشا بڑھ چکی ہے۔ بلڈر عارف جیوا نے بتایا کہ اس شعبے میں اگر ایک ڈیڑھ سال کے عرصے میں تعمیراتی لاگت کو لیا جائے تو یہ 1200 فی مربع فٹ بڑھ چکی ہے یعنی اگر آپ نے اگر 1000 فی مربع فٹ کا گھر بھی بنانا ہے تو اس کی لاگت بارہ لاکھ بڑھ گئی ہے۔ عارف جیوا نے کہا لاگت میں 1200 فی مربع فٹ میں اضافہ بہت بڑا اضافہ ہے جو لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہوچکا ہے تعمیراتی شعبے کے افراد کے مطابق حکومت کی آسان گھر سکیم ایک قرضہ لینے کی سکیم ہے کہ بینک آپ کو قرضہ آسان شرائط پر دینے کی سہولت دیںگے جس میں 20 لاکھ سے لے کر ایک کروڑ تک قرضے مختلف مدت کے لیے دیے جاتے ہیں۔ حنیف گوہر نے کہا کہ یہ ایک اچھا منصوبہ تھا کہ جس میں متوسط طبقے کو اپنا گھر بنانے کے لیے بینکوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے پاس موجود سرمائے کا پانچ فیصد ہاوسنگ لون کے طور پر دیں۔ انھوں نے کہا جب لاگت بڑھ گئی ہے تو لازمی طور پر ایک گھر جو پہلے تیس سے پینتیس لاکھ میں بن رہا تھا اس کی قیمت پچاس لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ’اب اگر کوئی قرضہ لیتا ہے تو لازمی طور پر اسے زیادہ قسط دینا پڑے گی۔ مہنگائی تو بڑھی لیکن لوگوں کی آمدن تو گذشتہ سطح پر ہے اس لیے یہ ہو نہیں سکتا کہ اب لوگ زیادہ قسط پر بینک سے قرض لے کر گھر بنائیں۔‘ دوسری جانب اگر بینکوں کی جانب سے ہاوسنگ شعبے کو جاری کیے جان والے قرض کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو بینکوں نے ’میرا پاکستان میرا گھر‘ کے تحت اب تک صرف اٹھارہ ارب روپے کے قرضے جاری کیے ہیں جس میں کم لاگت کے مکانوں کی تعمیر ہونا تھی۔ اٹھارہ ارب روپے کی رقم اس شعبے کے لیے ایک بہت ہی قلیل رقم ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بینک یا تو اس شعبے کے لیے کم رقم دے رہے ہیں یا پھر لوگ اس کے لیے کم رجوع کر رہے ہیں۔ مقامی بینک میں اس سکیم سے متعلق امور کو دیکھنے والے ایک بینکر نے بی بی اردو کو بتایا کہ یہ رقم بہت ہی کم ہے بانسبت لوگوں کی جانب سے درخواستوں کے۔ انھوں نے کہا بینک لوگوں کی مالی حالت دیکھ کر قرضے جاری کرتا ہے تاکہ اس قرضے کی واپسی یقینی ہو۔ انھوں نے اٹھارہ ارب روپے کی رقم کا اندازہ لگانا ہو تو ایک بڑا بلڈر کسی بڑے شہر میں صرف ایک پراجیکٹ پر اتنا بڑا خرچہ کر لیتا ہے اس لیے اٹھارہ ارب کی رقم اب تک اس شعبے میں کوئی نمایاں رقم نہیں۔ تعمیراتی شعبے کی لاگت میں بے تحاشا اضافے اور اس میں کسی ممکنہ کمی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اس شعبے کے افراد کے بات کسی تھوڑی سی کمی کے بارے میں تو پیشگوئی کی جا سکتی ہے لیکن ان کا آج سے ایک سے ڈیڑھ سال پہلے کی قیمتوں پر واپس جانا ممکن نظر نہیں آرہا۔ حنیف گوہر نے اس امکان کو مسترد کیا کہ مستقبل قریب میں کسی کمی کا امکان ہے اور قیمتیں ایک سے ڈیڑھ سال پہلے کی سطح پر واپس ہوں گی۔

عارف حبیب گروپ کے ڈائریکٹر اور معاشی امور کے ماہر احسن محنتی نے کہا کہ دنیا بھر میں سٹیل اور دوسرے خام مال کی قیمت بڑھی ہے جس کا اثر پاکستان پر بھی پڑا۔ انھوں نے کہا تاہم ہمارا مسئلہ یہ نہیں کہ اگر قیمتیں بڑھی ہیں یا گھٹی ہیں۔ انھوں نے کہا ہمارا سب سے بڑا ایشو ہمارا روپیہ ہے جو مسلسل ڈالر کے مقابلے میں گر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اگر مستقبل قریب میں بین الاقوامی قیمتیں نیچے آ بھی جائیں تو پاکستان اس سے مستفید نہیں ہو سکتا کیونکہ ڈالر کی قیمت درآمدی چیزوں کو بلند سطح پر رکھیں گی۔ احسن محنتی نے کہا پاکستان میں مہنگائی درآمدی چیزوں کی بلند قیمتوں کی وجہ سے ہے اور جس میں بین الاقوامی قیمتوں کے علاوہ ڈالر کی زیادہ قدر بھی ہے۔ ’اس لیے یہ نظر نہیں آتا کہ اگر کچھ عرصے میں عالمی سطح پر طلب میں کمی آئے اور قیمتیں نیچے کی سطح پر گریں تو پاکستان میں بھی قیمتیں نچلی سطح پر گریں کیونکہ ڈالر کی قدر اس سلسلے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے کیونکہ تاریخی طور پر ڈالر کے خلاف روپے کی قدر مسلسل گر ہی رہی ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں