بی بی جیوندی کا مقبرہ- فن وثقافت کا شاہکار

اوچ شریف کے محلہ بخاری میں بلندی پر واقعہ قبرستان کے عین درمیان میں بی بی جیوندی کا مقبرہ واقع ہے‘ یہ اپنے دور کی تعمیراتی شاہکاروں میں اپنی مثال آپ ہے‘ مشہور زمانہ تصنیف ” خطہ پاک اوچ” کے مصنف مسعود حسن شہاب نے بی بی جیوندی کا اصل نام بی بی جند وڈی لکھا ہے یہ سید جلال بن سیدحمیدکی دختر عالیہ ہے‘ جو برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ سید جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند بہاؤالدین کی اولاد میں سے تھیں‘ بی بی جند وڈی بڑی عابدہ‘ زاہدہ‘ پارسا‘ متقی‘ مستجاب الدعوات اور صالح خاتون تھیں‘ ان کی وفات 1403 میں ہوئی ان کا مقبرہ خراسان کے بادشاہ محمددلشاد جو آپ کے والد گرامی سید جلال کے عقیدت مندوں میں سے تھے نے 141 6 میں تعمیر کروایا‘ 1526 میں دریائے گھاگراں میں سیلاب آنے سے مقبرے کا آدھا حصہ گرگیا‘ بقیہ آدھے حصہ کو محکمہ آثار قدیمہ نے آہنی پائپوں کا سہارا دے کر موسمی حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جو آج بھی محکمہ آثار قدیمہ اور محکمہ اوقاف کی بے بسی کا آئینہ ہے‘ مقبرہ کی تعمیر ملتان کے مقبرہ حضرت شاہ رکن دین عالم کے مقبرہ کے طرزتعمیر پر کی گئی مقبرہ کی تعمیر حشت پہلو ہے اور ہر پہلو پر ایک مخروطی مینار تعمیر کیا گیا ہے‘ مقبرہ پختہ اینٹوں سے بنا ہے صدیاں گزرجانے کے باوجود یہ مقبرہ خوبصورتی اور بناوٹ میں آج بھی جاذب نظر ہے‘ یہ ملتانی کاشی گری کا شاہکار ہے‘ مقبرہ کو فیروزی‘ سفید اور نیلے رنگوں کی کاشی گری سے سجایا گیا ہے‘ جس میں بنائی گئی گل کاری اور جمیٹکل ڈیزائن اس کی خوبصورتی کو دوبالا کرتے ہیں‘ اندر سے مقبرہ خستہ حال ہے اور حکومتی بے بسی پر نوحہ کناں ہے‘ حال ہی میں امریکی قونصلیٹ نے اس عمارت کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کے لئے ایک لاکھ ڈالر کا عطیہ دیا لیکن ناجانے کہ وہ کہاں چلا گیا مقبرہ بدستور خستہ حال ہے‘ محکمہ آثار قدیمہ اور اوقاف کی جانب سے ایک سائیڈ پر ایک زنگ آلود آہنی بورڈ نصب ہے جس کی چند سطریں مقبرے کی تاریخ بیان کرتی ہیں جو اب مدہم ہوچکی ہیں‘ اقوام متحدہ کی جانب سے اسے ایک ثقافتی ورثہ کے طور پر رجسٹر کیاجاچکا ہے‘ لامہالہ وہ اس کی تعمیر کے لئے حصہ ملاتے رہتے ہوں گے مگرتاحال اس کی شکست وریخ پر کوئی توجہ نہیں دی جاسکی-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں