بھارت کی پاکستان مخالف فلم میں ‘چُرایا’ گیا پاکستانی گانا ہی شامل

بولی وڈ کی ‘پاکستان مخالف فلم’ میں پاکستان کے پرانے گانے ‘ظالما کوکا کولا پلادے’ کو کریڈٹ کے بغیر شامل کرنے پر ٹوئٹر پر تنقید کا سامنا ہے۔ گزشتہ روز یوٹیوب پر ریلیز ہونے والے پاکستانی گانے کے اس چربے اور بولی وڈ ڈانس نمبر میں نورا فتیحی موجود ہیں اور یہ گانا بھارتی فلم ‘بھوج: دی پرائیڈ آف انڈیا ‘ کا حصہ ہے جس میں اجے دیوگن بھی اداکاری کررہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میڈم نور جہاں کے چرائے گئے اس گانے کو بھارت میں ‘پارٹی سانگ آف دی ایئر’ بھی قرار دیا جارہا ہے۔ ولی وڈ فلم میں شامل اس گانے کی موسیقی تانشک باگچی نے ترتیب دی ہے اور اس میں وایو نے بول شامل کیے ہیں جبکہ اس گانے میں شریا گھوشال نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔ گانے کی یوٹیوب ڈسکرپشن پر نظر ڈالی جائے تو یہ گانا ٹی-سیریز، ای ایم آئی پاکستان اور 1 میوزک رائٹ سوسائٹیز کی جانب سے ریلیز کیا گیا ہے۔ یہ گانا پہلی مرتبہ پاکستان کی لیجنڈری گلوکارہ نور جہاں نے 1986 میں گایا تھا جو پنجابی فلم ‘چن تے سورما’ کا حصہ بھی تھا۔ عدازاں 2016 میں کوک اسٹوڈیو میں پاکستانی گلوکاروں میشا شفیع اور عمیر جسوال نے یہ گانا دوبارہ گایا تھا اور اسے میڈم نور جہاں کو خراج تحسین قرار دیا گیا تھا۔ اور اب اسے تیسری بار ابتدائی طور پر کریڈٹ ظاہر کیے بغیر بھارت میں ریلیز کیا گیا ہے، جسے شریا گھوشال نے گایا ہے۔ نورا فتیحی کے ڈانس نمبر پر مشتمل یہ گانا ایک ہی دن میں بے حد مقبول ہوا ہے اور اسے یوٹیوب پر2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے پاکستان مخالف فلم میں پاکستانی گانا ہی چُرانے پر تنقید کی جارہی ہے۔ صوفیہ نامی صارف نے لکھا کہ ‘پاکستان مخالف فلم میں یہ گانا شامل ہے، انہوں نے پاکستانی گانا چُرایا ہے، بہت ہی زیادہ منافقت ہے’۔ امبر نامی صارف نے لکھا کہ ‘ٹی سیریز کو میڈم نور جہاں کو کریڈٹ دینا چاہیے’۔ معروف خاتون سماجی رہنما ماروی سرمد نے ٹوئٹ کی کہ بولی وڈ نے بےشرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی گانا چُرالیا اور یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ ‘بھوج:دی پرائیڈ آف انڈیا’،جنگ اور ملک کی محبت پر مبنی فلم ہے، جس میں اجے دیوگن، سنجے دت، نورا فتیحی، سونا کشی سنہا اور دیگر اداکاری کررہے ہیں۔ یہ فلم 13 اگست کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم ڈزنی پلس ہاٹ اسٹار پر ریلیز ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں