بھارتی گلوکار سونو نگم ’می ٹو مہم‘ کی زد میں آنے والے بھارتی معروف موسیقار انوملک کی حمایت میں میدان میں آگئے۔

رسائی نیوزویب ڈیسک: سونو نگم نے کہا کہ بالی وڈ میں کئی لوگوں نے اپنی طاقت اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور میں اس بات کا گواہ ہوں۔ انو ملک پر ہراسانی کا الزام لگا ، اس کے جواب میں انو ملک بھی بہت کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کہہ رہے۔ سونو نگم کا کہنا تھا کہ ثبوت نہ ہونے کے باوجود بھی انو ملک پر لگائے گئے الزامات کو درست مانا جارہا ہے اور انہیں بدنام کیا جارہا ہے لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ ان پر پابندی کیوں لگائی جارہی ہے، ان کی روزی روٹی کے ذریعے کو کیوں بند کیا جارہا ہے، ان کے خاندان کو اذیت کیوں دی جارہی ہے ہمیں کس نے یہ حق دیا ہے کہ ہم ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے فیصلہ کریں، اگر ایسا کرنا ہے تو پھر ان کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کئے جائیں۔ بھارتی گلوکار کا کہنا تھا کہ میری بھی دو بہنیں ہیں، میں ’می ٹو تحریک‘ کے حق میں ہوں لیکن اس حد تک نہیں کہ کسی کے کام پر پابندی لگادی جائے۔ ان کے خاندان کو سزا نہ دی جائے۔ جس لڑکی نے انو ملک پر ہراسانی کا الزام لگایا ، اسی کی جانب سے ایس ایم ایس پر انو ملک کو ہولی اور نئے سال کی مبارک باد دی جاتی ہے۔ کس معاشرے میں ثبوت کے بغیر اتنی بڑی تہمت لگائی جاتی ہے، کیا ہم جنگل راج میں رہ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گلوکارہ شویتا پنڈت نے الزام لگایا تھا کہ انو ملک نے انہیں اس وقت جنسی طور پر ہراساں کیا تھا جب وہ صرف 15 سال کی تھی جب کہ بالی ووڈ کے معروف گیت نگار سمیر نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شویتا جس دن کا واقعہ بتا رہی ہے وہ اس وقت وہیں تھے اور ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں