بل گیٹس کا نیا سوڈیم جوہری توانائی کا منصوبہ کیا ہے؟

بل گیٹس کی جوہری توانائی کی فرم ”ٹیرا پاور‘‘ اور وارن بفٹ کی پاور کمپنی ”پیسیفی کورپ‘‘ نے ستمبر دو ہزار بیس میں ایک سوڈیم پروجیکٹ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے ایک چھوٹا ماڈیولر ری ایکٹر تیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا، جو سن دو ہزار تیس تک کمرشل بنا دیا جائے گا۔ اسی طرح کئی دیگر ممالک بھی ایسا ہی نام نہاد ”ماڈیولر‘‘ بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ بل گیٹس نے کہا تھا کہ ”جی ای ہٹاچی نیوکلیئر انرجی‘‘ فرم یہ ری ایکٹر امریکا کی سب سے زیادہ کوئلہ پیدا کرنے والی ریاست وائمنگ میں تعمیر کرے گی۔ بل گیٹس کا مزید کہنا تھا، ”ہمارے خیال میں سوڈیم منصوبہ توانائی کی صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔‘‘

یو ایس کلین انرجی ٹرانسفارمیشن ایکٹ کے تحت 2025ء تک کوئلے کے استعمال کے خاتمے اور 2045ء تک گرڈ کو مکمل ڈی کاربنائز کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی محکمہ توانائی نے ٹیرا پاور کو اپنے آئیڈیاز تیار کرنے کے لیے 80 ملین ڈالر سے نوازا ہے۔ ٹیرا پاور کے مطابق اس پلانٹ کی تیاری پر ایک ارب ڈالر خرچ ہوں گے جبکہ اس کی تعمیر پر سات برس لگ سکتے ہیں۔ امریکا میں ایک روایتی نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کی لاگت تقریباً 25 بلین ڈالر ہے اور اس کی تعمیر میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

غیر منافع بخش کلین ایئر ٹاسک فورس میں جوہری اختراع کے ڈائریکٹر بریٹ رامپال کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”اس طرح کے چھوٹے اور جدید ری ایکٹر بل گیٹس اور دوسروں کی فنڈنگ ​​سے تیار کیے جا رہے ہیں۔ یہ کاربن خارج نہ کرنے والی توانائی کے لیے نئی ایپلی کیشنز، نقطہ نظر اور مواقع پیش کرتے ہیں۔‘‘

تاہم چیتھم ہاؤس کے ریسرچ فیلو اینٹونی فروگیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”یہ اتنے چھوٹے نہیں ہیں، یہ 350 میگاواٹ کے ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ” موجودہ ری ایکٹرز (1000 میگا واٹ) کے مقابلے میں تو چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی اتنے چھوٹے نہیں ہیں، جیسا کہ بتایا جا رہا ہے۔ یہ اس دلیل کو کمزور کرتا ہے کہ انہیں فیکٹریوں میں بنایا جا سکتا ہے اور پھر دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے سستا سمجھا جا رہا ہے۔‘‘

تاہم سوڈیم ری ایکٹرز کو ابتدائی طور پر بطور بیک اپ جنریٹر استعمال کیا جائے گا تاکہ ہوا اور شمسی توانائی کی پیداوار میں کمی کو پورا کرنا چاہیے۔ سوڈیم ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی کو پگھلے ہوئے نمک کے ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جا سکتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر بیٹری کی طرح اسے مستقبل میں استعمال کیا جا سکے۔

میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ڈیپارٹمنٹ آف نیوکلیئر سائنس اینڈ انجینئرنگ سے تعلق رکھنے والے چارلس فورسبرگ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ” سوڈیم ٹیکنالوجی میں نائٹریٹ ہیٹ اسٹوریج ٹینک شامل ہیں۔ سولر پاور سسٹم میں بھی بنیادی طور پر ایسا ہی نظام استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح صنعتی ضرورت اور مرضی کے مطابق بجلی کی پیداوار کا اخراج کیا جا سکتا ہے۔ یہ گیس ٹربائنز اور کوئلے کے پلانٹس کا متبادل ہیں۔‘‘

دوسری جانب اس منصوبے کے ناقدین بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بل گیٹس اور اس منصوبے میں شامل دیگر کمپنیوں کی طرف سے مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہی اور تسلی بخش جواب بھی نہیں دیے جا رہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی حقیقتا کاربن فری ثابت ہو گی۔

گرین پیس کے جان ہورکمپ کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ منصوبہ گرین انرجی کا متبادل نہیں ہو سکتا، ”یہ ہو سکتا ہے کہ بل گیٹس اور بفٹ کا یہ منصوبہ روایتی جوہری پلانٹ سے بہتر ہو؟ لیکن فی الحال یہ ایک تجربہ ہے اور اس حوالے سے کیے جانے والے دعوؤں پر مجھے شک ہے۔ کسی بھی صورت میں، یہ توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔ ہمارے لیے جتنی جلدی ہو سکے جوہری توانائی کو ترک کرنا اور سو فیصد قابل تجدید ذرائع کی طرف بڑھنا بہتر ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں