بلوچستان: بعد از سیاسی بحران نئی کابینہ میں کوئی خاتون شامل نہیں

صوبہ بلوچستان میں سیاسی بحران کے بعد وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کے انتخاب کے بعد نئی کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے۔ 14 وزرا اور پانچ مشیران نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا ہے البتہ اس کابینہ میں ایک بھی خاتون ممبر شامل نہیں ہے۔ سابق وزیر اعلی جام کمال کے خلاف محاذ میں کھڑی ہونے والوں میں چند خواتین بھی شامل تھیں۔ جنہوں نے آخر تک مخالفت برقراررکھی تھی۔ اس مردوں پر مشتمل کابینہ کی تشکیل پر جام کمال مخالف ناراض اراکین کا ساتھ دینے والی خاتون ممبر اسمبلی ماہ جبین شیران نے ٹوئٹر پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’مردوں پر مشتمل کابینہ مبارک ہو۔‘ مہ جبین شیران نے مزید لکھا: ’14 وزرا اور پانچ مشیر لیکن کوئی ایک خاتون بھی شامل نہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ پدرشاہی نظام زندہ اور مضبوط ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ اس وقت ہو رہا ہے، جب خواتین کی عوام اور سیاست میں شرکت وقت کی ضرورت ہے۔
Congratulations to the Male-dominated Cabinet.
14 ministers , 5 advisers, not even a single woman. It is a big, fat depiction that patriarchy is alive and well. It’s happening at a time when women participation in public & political affairs is the need of the hour. دوسری جانب سابق حکومت میں مشیر اطلاعات رہنے والی اور جام کمال کے خلاف مخالف کیمپ کی رکن بشریٰ رند نے بھی اس معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان کے سب سے غلبے (یعنی مردوں) والی کابینہ مبارک ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ ’یہ وہ ہیں جو خواتین کے حقوق کے لیے بات کرتی ہیں اور یہ سال بھی دنیا بھر میں خواتین کے استحکام کا ہے۔‘ بشریٰ رند نے مزید لکھا کہ ’اس مردانہ تسلط والے معاشرے میں بلوچستان ترقی کرے گا۔‘ جس پر سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان دونوں خواتین کے ٹویٹ پر ردعمل دینا شروع کردیا ہے۔ جس میں ان پر تنقید بھی کی جارہی ہے کہ وہ جام کمال کے خلاف آلہ کار بنی تھیں۔ ایک سوشل میڈیا صارف عبدالرشید نے لکھا: ’یہ مکافات عمل ہے۔ میڈم ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔‘

ایک اور صارف اسماعیل زیب نے لکھا: ’جام کمال تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔‘ اویس گچکی نامی صارف نے مختلف انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’حوصلہ بہن۔‘ مہ جبین شیران کی ٹویٹ پر صارفین نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ایک صارف میر بہرام لہڑی نے لکھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس کی حقدار ہیں۔‘ بلوچستان کی نئی کابینہ میں حلف اٹھانے والوں میں جام کمال سے اختلاف کرنے والے ظہور بلیدی، سردار صالح بھوتانی، سردار عبدالرحمان کھیتران، نور محمد دمڑ، اکبر آسکانی، سکندر علی عمرانی، محمد خان لہڑی، اسد بلوچ، احسان شاہ اور نصیب اللہ مری شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مبین خلجی، انجینیئر زمرک، عبدالخالق ہزارہ بھی نئی کابینہ میں شامل ہیں، جو اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ جام کمال کی کابینہ کا بھی حصہ تھے۔

گہرام بگٹی، میر نعمت زہری، رشید بلوچ، مسعود لونی اور ضیا لانگو مشیر بنائے گئے ہیں۔ حلف برداری کے موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ 18 ویں ترمیم کے باعث وزرا کی تعداد محدود ہے، تاہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں گے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں ایک مہینے تک سیاسی بحران رہا اور سابق وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف اپوزیشن کی مخالفت اور ان کی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کے ناراض ارکان کی طرف سے بغاوت کے باعث سیاسی ماحول گرم رہا۔ جام کمال کے خلاف پہلے اپوزیشن اور بعد میں حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے ارکان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد جمع کرنے کے بعد صورتحال میں شدت آئی اور اس کا نتیجہ وزیراعلیٰ جام کمال کے استعفے کی صورت میں سامنے آیا۔

اس کابینہ کی تشکیل اور حلف برداری میں ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند بھی ناراض نظر آتے ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے قدوس بزنجو کی حمایت کے وقت کہا تھا کہ انہیں کچھ نہیں چاہیے، لیکن وہ تقریب میں شامل نہیں تھے۔
اس معاملے پر رد عمل جاننے کے لیے اختلاف ظاہر کرنے والی ممبران صوبائی اسمبلی مہہ جبین شیران اور بشری رند سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ادھر صوبائی کابینہ میں شامل ظہور بلیدی کو بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ واٹس ایپ کے ذریعے مسیج بھیجا گیا۔ انہوں نے پڑھ کر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی کابینہ میں بھی کوئی خاتون وزیر شامل نہیں تھی بلکہ خواتین کو پارلیمانی سیکرٹریز کے عہدے دیے گئے تھے۔

جب اس حوالے سے سابقہ پارلیمانی سیکرٹری ربابہ بلیدی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ سیاسی صورتحال پر بات نہیں کریں گی۔ انہوں نے کابینہ میں خواتین کی عدم شمولیت پر کہا کہ اس پر بات کرنے سے پہلے ہمیں پارلیمانی سیکرٹریز کی تعیناتی کا انتظار کرنا چاہیے جو ابھی تک نہیں ہوئی۔ یاد رہے کہ جن خواتین ممبران نے اس بار کابینہ میں خواتین کی عدم شمولیت پر اعتراض کیا ہے انہیں بھی سابقہ جام کمال دور میں پارلیمانی سیکرٹری ہی بنایا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں