برطانیہ نے سائنوویک، سائنوفارم کو منظور شدہ ویکسینز میں شامل کرلیا

برطانوی حکومت نے 22 نومبر سے منظور شدہ ویکسینز کی فہرست میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینز سائنو فارم، سائنوویک اور کوویکسین کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان کرسچن ٹرنر نے اس پیش رفت کو ’پاکستانی مسافروں کے لیے خوشخبری‘ قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں ٹوئٹر پر آگاہ کیا۔ اس اقدام کا مطلب ہے کہ وہ پاکستانی مسافر جنہوں نے مذکورہ بالا تینوں ویکسینز کی مکمل خوراک حاصل کرلی ہے انہیں گھر میں لازمی قرنطینہ سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور صرف دوسرے روز ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ مسافروں کے پاس منظور شدہ ویکسین کے مکمل کورس کے ساتھ مکمل ویکسی نیشن کا ثبوت ہونا چاہیے۔

مزید برآں انہوں نے انگلینڈ پہنچنے سے کم از کم 14 دن پہلے ویکسین کی آخری خوراک لی ہو اور ان 14 دنوں میں ویکسین کا آخری دن شمار نہیں ہوگا۔ اس اعلان سے قبل پاکستان سے آنے والے وہ مسافر جنہوں نے یہ ویکسین لگوائی تھی، انہیں برطانیہ پہنچنے پر 10 دن کے لیے گھر میں قرنطینہ کرنا پڑتا تھا۔ اگرچہ اس پیش رفت سے مسافروں کو سہولت ملے گی لیکن اس میں اسپوتنک کو ویکسین کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسپوتنک، پاکستان میں لگائی جانے والی 7 ویکسینز میں سے ایک ہے جن میں فائزر، موڈرنا، ایسٹرازینیکا، سائنوفارم، سائنوویک اور کین سائنو شامل ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ملک میں وبا کے پھیلاؤ کے آغاز سے اب تک کورونا وائرس کیسز مثبت آنے کی کم ترین شرح ریکارڈ کی گئی جو 0.94 فیصد تھی۔ این سی او سی کے مطابق گزشتہ برس مارچ میں کورونا وبا کے آغاز سے مثبت شرح 10 فیصد سے زائد تھی اور جون 2020 میں یہ 22.24 فیصد تک جاپہنچی تھی۔ تاہم احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے بعد یہ شرح ستمبر 2020 میں 1.75 فیصد تک کم ہوگئی تھی جس کے بعد اس میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ دسمبر میں ایک مرتبہ پھر مثبت شرح بڑھ کر 7.94 فیصد ہوگئی اور 2 ماہ بعد کم ہو کر 3.3 فیصد پر آگئی، تاہم رواں برس اپریل میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھ گئی تھی۔

اسی طرح وبا کی موجودہ لہر میں بلند ترین مثبت شرح اگست میں 8.23 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کم ہوتے ہوئے گزشتہ روز 0.94 فیصد تک آگئی۔ کووڈ 19 ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ ویکسی نیشن ہے کیوں کہ آبادی کے بڑے حصے کو ویکسین لگادی گئی ہے اور اس میں زیادہ توجہ بڑے شہروں پر ہے جہاں زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ہیلتھ ورکرز کے متاثر ہونے کی شرح بھی کم ہوگئی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں