ایف آئی اے نے اینکرپرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو پی ٹی وی کرپشن کیس میں گرفتار کرلیا

رسائی نیوزنمائندہ خصوصی اسلام آباد: معروف اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کو پی ٹی وی کرپشن کیس میں گرفتار کرلیا گیا، پی ٹی وی کرپشن کیس میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو ضمانت خارج ہونے کے بعد فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے انہیں گرفتار کیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی درخواست ضمانت مسترد کرنے کے احکامات جاری کیے، دوران سماعت پی ٹی وی کے وکیل محمد نذیر جواد کا کہنا تھا کہ شاہد مسعود نے جعلی کمپنی کے ساتھ کرکٹ میچز کے نشریاتی حقوق کا معاہدہ کیا، کمپنی لاہور میں کیٹرنگ اور دیگوں کا کام کرتی تھی، جعلی کمپنی کو معاہدے کے وقت 3 کروڑ 70 لاکھ کی فوری ادائیگی کی گئی۔ وکیل پی ٹی وی نے کہا کہ اس کیس میں پی ٹی وی کے کاشف ربانی بھی شریک ملزم ہیں، جعلی کمپنی کو کاشف ربانی اور شاہد مسعود کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا، شریک ملزم کاشف ربانی ضمانت مسترد کرنے پر 1 کروڑ 29 لاکھ روپے واپس کر چکے ہیں اور شریک ملزم روشن مصطفی گیلانی نے بھی 80 لاکھ روپے واپس کئے جب کہ شریک ملزم کہتے ہیں کہ باقی پیسے ڈاکٹر شاہد مسعود نے دینے ہیں۔ شاہ خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ شاہد مسعود کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں تھا، انہوں نے لیگل ایڈوائزر کی تیار کردہ دستاویز پر دستخط کیے جب کہ انکوائری کمیٹی نے جعلی کمپنی سے معاہدے کا ذمہ دار شاہد مسعود کو قرار دیا حالانکہ شاہد مسعود کو انکوائری میں شامل ہی نہیں کیا گیا اور وہ مستعفی بھی ہو چکے تھے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود پر بطور چیئرمین پی ٹی وی کروڑوں روپے کی کرپشن کا الزام ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں