ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون نظیم کا اجلاس تجارتی تنازع کی نذر ہوگیا۔

رسائی نیوز ویب ڈیسک:21 رکنی ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کا اجلاس جزیرہ ریاست پاپوا نیو گائنیا میں ہوا جس میں شریک رکن ممالک مشترکہ ایجنڈے پر اتفاق نہ کرسکے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 25 سالہ تاریخ میں سالانہ اجلاس بنا کسی مشترکہ اعلامیئے کے بغیر ختم ہوا اور اجلاس کا نتیجہ فوٹو سیشن تک محدود رہا۔ اجلاس کے خاتمے پر تیار کیے گئے ڈرافٹ میں امریکا نے چین پر غیرمنصفانہ تجارت کا الزام عائد کیا جب کہ چین نے کہا کہ امریکا معاملے کو پیچیدگی میں الجھانا چاہتا ہے تاہم اس ڈرافٹ کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔ پاپوا نیو گائنیا کے وزیراعظم پیٹر اونیل نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چین اور امریکا کے درمیان تنازعہ پر پوری دنیا تشویش میں مبتلا ہے اور عالمی رہنماؤں کی جانب سے اجلاس کے دوران کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کسی متفقہ نتیجے پر نہ پہنچنے کے ذمہ دار ممالک میں امریکا اور چین بھی شامل ہیں۔ تجارتی تنازع کے باعث امریکا اور چین ایک دوسرے کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرچکے ہیں جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں