ایتھوپیا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اقوام متحدہ

جنیوا۔: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ایتھوپیا میں 2نومبر سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعدگرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے اور اب تک کم از کم ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،تاہم بعض رپورٹس میں یہ تعداد زیادہ بتائ گئی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے نے ہائی کمشنر آفس کی ترجمان لز تھروسل کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ 2نومبر سے ایتھوپیا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد اب تک دارالحکومت عدیس ابابا، گوندر ، باہر درشہروں اور ٹیگرے کے علاقے میں کم از کم ایک ہزار افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اوربعض رپورٹس میں یہ تعداد زیادہ بتائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا میں اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے مقامی عملے کے 10ارکام کے ساتھ ساتھ 34ڈرائیور اب بھی حراست میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس پوزیشن مین نہیں ہیں کہ گرفتار کیے گئے افراد کی واضح تعداد بتا سکیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے گرفتار عملے کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتےہوئے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اس حوالے سے ایک عدالت یا دیگر آزاد اور غیر جانبدار ٹریبونل کو ان کی حراست کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے یا ان پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کی جانی چاہیے۔

کے مطابق ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابے احمد کی حکومت نے سیاسی جماعت ٹیگرے پیپلز لبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف) کی جانب سے دارالحکومت عدیس ابابا کی طرف مارچ کرنے کی دھمکی دینے کے بعد 2نومبر کو ہنگامی حالت نافذ کر رکھی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں