ایبٹ آباد کا 100 سال پرانا ’پیلس ہوٹل‘ جہاں اب حکومتی محکمے بستے ہیں

ایبٹ آباد سے گزرتی شاہراہ ریشم سے شمالی علاقوں کی طرف جاتے ہوئے لیڈی گارڈن پارک سے اندر داخل ہوں تو ایک سڑک شملہ پہاڑی کو لے جاتی ہے جس پر تاریخی مسیحی چرچ سے چند فرلانگ کے فاصلے پر وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا نوآبادیاتی دور کی یادگار پیلس ہوٹل آج عدم توجہی اور حوادث زمانہ کے باعث زبوں حالی کا شکار ہے۔ ہمالیہ کی شاخوں سربن اور شملہ کے پہاڑی سلسلوں میں گھرے مختلف تہذیبوں کے فن تعمیر کا امتزاج یہ شہ پارہ چوڑی دیواروں، اونچی چھتوں، وسیع برآمدوں اور بڑے کمروں پر مشتمل ہے۔ عظیم اور نامور لوگوں کا مسکن رہنے والی یہ عمارت اپنی خوبصورتی، پائیداری اور وسعت کے لحاظ سے قابل دید تھی۔ اس خوبصورت عمارت میں برما سے درآمد کی گئی اعلیٰ قسم کی ساگوان کی لکڑی کے دروازے اور کھڑکیاں لگائی گئیں جب کہ دیواروں میں مقامی تراشیدہ پتھر اور اینٹوں کو بھی استعمال کیا گیا تھا۔ اس میں اٹلی کا ماربل، کشمیر کا فرنیچر اور انگلستان کی معروف شینک کمپنی کا سامان نصب کیا گیا تھا جب کہ عمارت میں بار رومز اور کلب کے علاوہ رہائشی کمرے بھی تھے اور ہوٹل کے چاروں اطراف میں باغات لگائے گئے تھے۔ اس وقت کے عین تقاضوں کے مطابق عمارت کو گرم رکھنے کے لیے منفرد ییٹنگ سسٹم بھی نصب کیا گیا تھا۔

پیلس ہوٹل کو 1920 کی دہائی میں ضلع ہزارہ صوبہ سرحد کے ایک مالدار ہندو تاجر رائے بہادر ایشر داس نے بڑے چاؤ سے تعمیر کروایا تھا۔ اس ہوٹل کی راہداریاں، وسیع صحن، کشادہ کمرے، اونچی چھتیں، ہوادار کھڑکیاں اور دروازے اور چاروں اطراف میں پھیلے چمن اس کے شاندار ماضی کے عکاس ہیں۔ اس میں قائم کی گئی سیڑھیاں گھومتی چکر کھاتی ہوئی اس کی چھت پر جا نکلتی ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل یہ ہوٹل امرا کا اولین انتخاب ہوا کرتا تھا جہاں وہ ایبٹ آباد کے حسین موسم، فطرتی حسن اور رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے آتے تھے۔ اس ہوٹل میں زندگی کی ہر آسائش اور آرام موجود تھا لیکن بعدازاں بتدریج نظروں سے گرتا گیا جس پر ماحول دوست رضاکاروں کا خیال ہے کہ اس تاریخی عمارت کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی نژاد کینڈین شہری اور گذشتہ چند دہائیوں سے ایبٹ آباد کی تاریخی عمارتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکن انجینیئر محمود اسلم بتاتے ہیں کہ محل وقوع کے اعتبار سے پیلس ہوٹل کے سامنے خوبصورت نظارے تھے۔ چاروں اطراف میں پہاڑوں سے ٹکرا کر رش کے ان چیڑھ اور چناروں سے مہکتی ہوئی ہوائیں جب اس کے چار سو پھیلے گلزاروں میں پہنچتی ہیں تو ہر ایک شجر جھوم جھوم کر فضا کو خمار آلود کر دیتا ہے۔ یہ روح پرور ماحول دیکھنے والی آنکھ کو جنتِ ارضی کا منظر پیش کرتا ہے۔

محمود بتاتے ہیں کہ ایبٹ آباد کا یہ پیلس ہوٹل جہاں تقسیم سے قبل ہندوستان کے انگریز افسروں اور شرفا شہر کی قیام گاہ رہا ہے وہیں قیامِ پاکستان کے بعد ریاست کے حکمران اور ان کے شاہی مہمان اس ریاستی مہمان خانے میں قیام کرتے رہے ہیں جن میں برطانوی ملکہ الزبتھ، چین کے وزیر اعظم ژو این لائی اور شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی ملکہ فرح دیبا پہلوی بھی یہاں رکے۔

ایبٹ آباد یونیورسٹی کے شعبہِ تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر قیصر الیاس نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا: ’کسی بھی خطے میں قائم تاریخی عمارت اس علاقے یا شہر کے حسن اور تاریخ کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ ایبٹ آباد کینٹ کے عین وسط میں قائم تقسیمِ ہند سے قبل کی بھولی بسری یہ عمارت آج اپنی بے بسی اور کسمپرسی پر سرگریہ کناں ہے جو ماضی میں بہترین اور پرتعیش ہوٹل رہا ہے۔ اس ہوٹل کے مالک رائے بہادر ایشر داس صوبہ سرحد کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مالدار شخصیت تھی۔ وہ ہجرتِ سے قبل مردان شوگر ملز کے سب سے زیادہ اثاثوں کے مالک ہونے کے ساتھ ہزارہ کی چند بااثر شخصیات میں سے تھے جب کہ آج ان کا ساوہنے خاندان بھارت کا سرفہرست صنعت کار خاندان ہے۔‘

محقق محمد جبران کی تحقیق کے مطابق پہاڑوں کی آغوش میں آباد انگریز کے قائم کردہ اس ہل سٹیشن ایبٹ آباد میں یہ ہوٹل تاج برطانیہ کے افسروں، مہمانوں اور امرا کا دار السکون رہا ہے جب کہ قیامِ پاکستان کے بعد اس ہوٹل کو حکومتِ پاکستان نے ریاستی مہمان خانہ بنایا جہاں ملکی اور بین الاقوامی وزیروں اور سفیروں کے علاوہ شاہی مہمانوں نے بھی وقت گزارا مگر اس کے تصاویری شواہد دھندلکوں میں کہیں گم ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ نا مناسب نگہداشت اور بے اعتنائی برتنے کی وجہ سے اس کی دیواروں پر لگی پرانی تصویریں جو ایبٹ آباد کے ماضی کا پتا دیتی تھیں کو ملازمین چرا کر لے گئے۔

جبران نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا: ’تحقیق کے دوران انہیں دستاویزی شواہد نہ مل سکیں جس کی وجہ قیامِ پاکستان کے بعد اس ہوٹل کے ساتھ برتی جانے والی غفلت اور اس کے حصوں کی مختلف محکموں کو منتقلی رہی ہے۔‘ خوبصورت فن تعمیر کا حامل یہ ہوٹل اب گزرتے وقت کے ساتھ امتداد زمانہ کا شکار ہو رہا ہے اور عدم توجہی اور لاپروائی کے باعث اس کی عمارت میں کئی سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کے دفاتر قائم ہیں جن میں مقامی حکومت کے دفاتر بھی شامل ہیں۔ یہ ہوٹل اب دھیرے دھیرے اپنے تابناک ماضی سے محروم ہوتا جا رہا ہے جب کہ حکومت کی جانب اس کے تحفظ کے لیے کوئی اقدامات نہیں لیے گئے ہیں۔

پروفیسر قیصر الیاس بتاتے ہیں کہ مادی آثار کسی قوم کی تاریخ کو محفوظ کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ان تاریخی ورثوں کی جانب عوام و خواص کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس تاریخی ورثے کی عمارت آج سکڑ سی گئی ہے اس کے مرغزاروں پر ناجائز قبضے ہو رہے ہیں اور حکومتی لاپروائی کے باعث صدی پرانی عمارت کسی بھی وقت منہدم ہو سکتی ہے۔ جبران بتاتے ہیں کہ اپنے بہترین معیارِ تعمیر کی وجہ سے یہ عمارت خود تو نہیں گر رہی لیکن کچھ لوگ اس کو گرانے کے درپے ہیں تاکہ وہ اس کی جگہ نئے کمرشل پلازے تعمیر کر سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں