اگر بلڈ پریشر کے مریض ورزش، تیراکی، وزن اٹھانے یا پیدل چلنے کو اپنی عادت بنائیں تو اس کا اثر عین دواؤں جیسا ہوتا ہے

رسائی نیوزویب ڈیسک: لندن اسکول آف اکنامکس کے حسین نقی اور ان کے ساتھیوں نے دواؤں کے بلڈ پریشر پر اثرات کے 194 مطالعات اور خاص ورزشوں کے 197 سروے کا بغور مطالعہ کیا جس میں مجموعی طور پر 40 ہزار افراد شامل تھے۔ تاہم اس سے قبل بلڈ پریشر کے علاج کے لیے ورزش بمقابلہ دوا پر غور نہیں کیا گیا تھا۔ اس سروے سے ماہرین نے معلوم کیا کہ بلڈپریشر گھٹانے والی بعض ورزشیں مثلاً تیراکی اور وزن اٹھانے کے مریض پرعین دواؤں جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں یعنی ورزش خود دوا بن جاتی ہے۔ تاہم یہ بات ان افراد کے لیے ہے جن کا بلڈ پریشر معمول سے زیادہ ہو۔ ورزشوں میں سائیکل چلانا، پیدل چلنا، وزن اٹھانا اور تیراکی جیسے کام بلڈ پریشر کم کرتے ہیں۔
تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اس مثبت رپورٹ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دوا کو چھوڑ دیا جائے بلکہ دوا کے ساتھ ساتھ ورزش جاری رکھی جائے تو اس کے دوہرے فائدے ہوتے ہیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں