اپوزیشن کا مذاکرات سے قبل حکومت سے تحریری یقین دہانی کا مطالبہ

اسلام آباد: مشترکہ اپوزیشن کے ارکان نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر سے گزشتہ روز دو بار ملاقات کی اور اُن سے کہا ہے کہ وہ انہیں تحریری طور پر اپنے ساتھ ہونے والی مصروفیات کی شرائط دیں جس میں یہ دوٹوک بیان ہونا چاہیے کہ یہ حکومت ہی تھی جو ان (اپوزیشن) سے بات چیت کے لیے رابطہ کر رہی ہے۔ واقعہ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق اپوزیشن نے اس بات کی یقین دہانی بھی طلب کی ہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والے متنازع آرڈیننس پر پارلیمانی کمیٹی میں بحث کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اپوزیشن کا اسپیکر اسمبلی سے تحریری طور پر شرائط طلب کرنے کا فیصلہ مشترکہ اپوزیشن کی حال ہی میں بنائی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی کے ارکان نے ایک اجلاس میں کیا تھا۔ سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے اپوزیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد ملاقات کے لیے اسپیکر کے چیمبر کی جانب روانگی سے قبل صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اسپیکر سے بات کرنے جارہے ہیں کہ وہ ہمیں تحریری طور پر شرائط دیں کیونکہ ہم یہ نہیں سننا چاہتے کہ ہم (اپوزیشن) مذاکرات کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں‘۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ اسپیکر نے ایک روز قبل ان سے اور پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں بتایا کہ وہ حکومت اور دونوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر تقریباً 20 بلوں اور آرڈیننس پر بحث کرتے دیکھنا چاہتے ہیں جن کی حکومت، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے قانون سازی چاہتی تھی۔ ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسپیکر کی دعوت کو تحریری طور پر موصول ہونے اور ان کی قیادت کی منظوری کے بعد ہی جواب دیں گے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کو پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جب حکومت نے جمعرات کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیے جانے کے 24 گھنٹوں کے اندر ملتوی کردیا تھا۔ اجلاس ملتوی کرنے کی وجہ مطلوبہ تعداد میں ارکان کی عدم موجودگی، الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے آئی ووٹنگ متعارف کرانے کے حوالے سے مجوزہ انتخابی اصلاحات کے بل پر اس کے اتحادیوں کی طرف سے تحفظات تھے۔ کمیٹی کے قیام کا اعلان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی موجودگی میں مشترکہ اپوزیشن کے سابق ارکان کے لیے دیے گئے عشائیے میں کیا۔ مشترکہ اجلاس ملتوی کرنے کا اعلان وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے ایک ٹوئٹ کے ذریعے سامنے آیا جب وزیراعظم عمران خان نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کے اجلاس کی صدارت کی جس میں 150 سے زائد ممبران نے شرکت کی تھی۔

وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا تھا کہ مشترکہ اجلاس اس لیے ملتوی کیا گیا کیونکہ حکومت ایک بار پھر اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر اکٹھا کرنا چاہتی ہے جو کہ ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک مسئلہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسد قیصر کو اپوزیشن سے دوبارہ رابطہ کرنے کو کہا گیا ہے تاکہ وہ اتفاق رائے سے انتخابی اصلاحات کے بل کو پیش کر سکیں۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ حکومت انتخابی اصلاحات پر اقدامات واپس نہیں لے گی، چاہے وہ اس پر اتفاق رائے نہ بھی کریں۔ وفاقی وزیر نے بعد میں بتایا تھا کہ مشترکہ اجلاس اتحادی شراکت داروں کی درخواست پر ختم کیا گیا تھا جنہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا تھا کہ وہ انہیں ایک موقع دیں تاکہ وہ اپوزیشن کو قانون سازی کے لیے اس کی حمایت حاصل کرنے میں مشغول کر سکیں۔ تاہم کابینہ کے ایک اور سینئر رکن نے تصدیق کی کہ مسلم لیگ (ق)، جو مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحادی ہے، نے ای وی ایم کے معاملے پر اپنی جماعت میں مشاورت کے لیے کچھ وقت مانگا تھا، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں اس پر کچھ تحفظات ہیں۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی اسپیکر کی طرف سے تحریری طور پر موصول ہونے کے بعد مزید کارروائی پر غور کرے گی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ہی حقیقی سیاسی تنظیمیں ہیں اور وہ کمیٹیوں اور پارلیمنٹ کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتیں۔
حکومت کی جانب سے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہ مشترکہ اجلاس کی منسوخی کے پیچھے اپوزیشن کا ہاتھ ہے، انہوں نے کہا کہ ان کے مشترکہ اجلاس کو منسوخ کرنے یا واپس لینے کے لیے حکومت یا اسپیکر سے رابطہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انہوں نے بلایا تھا اور (انہوں نے ہی) منسوخ بھی کیا، ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے‘۔ شیری رحمن نے کہا کہ درحقیقت مشترکہ اجلاس اس لیے منسوخ کر دیا گیا کیونکہ کہ حکومت کے پاس اپنے بلوں کو بلڈوز کرنے کی تعداد نہیں تھی کیونکہ ان کے اپنے لوگ اور اتحادی پیچھے ہٹ چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بے نقاب ہونے اور پارلیمنٹ میں شکست کا سامنا کرنے سے ڈرتے ہیں، ہماری پارلیمنٹ میں تعداد ہے اور پاکستانی عوام کی حمایت ہے‘۔

پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات اور ایم این اے شازیہ مری نے ایک بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکومت کی پارلیمنٹ کو غیر فعال اور غیر موثر بنانے کی سازش ناکام بنا دی گئی ہے اور وزیراعظم عمران خان تین سال سے پارلیمنٹ سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل وزیراعظم کو ہٹانے کا وقت آگیا ہے۔ شازیہ مری نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے ذریعے ’منتخب اور مسلط کردہ وزیر اعظم‘ کو برطرف کریں گی، عمران خان قومی اسمبلی میں اعتماد اور اکثریت کھو چکے ہیں۔ اس سے قبل ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی مفاد اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے قانون سازی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے جسے چند روز کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق بابر اعوان نے کہا کہ حکومت کے پاس عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اصلاحات کا ایجنڈا ہے اور وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کی جانے والی قانون سازی کی تجاویز پر مذاکرات کے لیے اپوزیشن کو شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی ایجنڈے پر اپوزیشن کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی اور اس پر کسی اختلاف کی صورت میں پارلیمنٹ میں ووٹنگ فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ مشترکہ اجلاس وقتی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے اور اپوزیشن قومی مفادات میں مصروف رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی پہلے ہی انتخابی اصلاحات کے بل پر غور کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے جس میں انتخابات (ترمیمی) بل 2021، اور انتخابات (دوسری ترمیم) بل 2021 شامل ہیں۔ انہوں نے بلوں کے مقصد کی وضاحت کی اور کہا کہ حکومت صرف ملک میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے حوالے سے سنجیدہ ہے کیونکہ وہ سمندر پار پاکستانیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔ مشیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ متعدد بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیجے گئے ہیں، یہ قانون سازی کی تجاویز قومی اہمیت کی حامل ہیں اور خواتین، بچوں کے حقوق، کسانوں اور عوامی بہبود کے تحفظ کے لیے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن عوامی فلاح سے متعلق کاموں کو پورا کرنے کے لیے پی ٹی آئی حکومت کا ساتھ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا ایجنڈا غیر سیاسی اور پاکستانی عوام کے لیے ہے، پی ٹی آئی حکومت عوام کی حمایت میں قانون سازی کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں