اُردو زبان تہدیب و ثقافت کی علمبردار

اُردو جسے کہتے ہیں تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جس کو یہ زباں آئی
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اُردو ایک زبان سے زیادہ ایک تہذیب کی علامت ہے۔ اس لسانی تہذیب نے مغلوں کے دورِ زوال میں عروج پایا اور کشمیر سے کنہیا کماری تک بھانت بھانت کی بولیوں بیچ اپنا رنگ جمایا۔ یہ رنگ اتنا چوکھا تھا کہ شاعر پکار اٹھا:
’ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔‘
سرِدست ’روش صدیقی‘ کے اس شعر میں موجود لفظ ’تہذیب‘ سے فیضاب اور لفظ ’چشمہ‘ سے سیراب ہونا مقصود ہے۔ ’تہذیب‘عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے لفظی معنی کھجور کے درخت سے چھال اتارنا یا صاف کرنا ہیں۔ ان معنی کی رعایت سے اس لفظ میں ’شائستگی، آراستگی، اصلاح و ادب‘ کا مفہوم پیدا ہوا، یوں ذہنی ترقی، طرز معاشرت اور تمیز و تمدن کو بھی ’تہذیب‘ کہا گیا۔
ایک طرف ارباب ادب نے کتاب کی ترتیب و تدوین کو ’تہذیب‘ میں شمار کیا تو دوسری طرف صوفیاء نے قلب و نفس کی پاکیزگی کو ’تہذیب‘ کا نام دیا۔ برسبیل تذکرہ عرض ہے کہ عربی میں کھجور کو ’خُرما‘ اور کھجور کے درخت کو ’نخلہ‘ کہتے ہیں، جب کہ اس ’نخلہ‘ کی جمع ’نَخْلٌ‘ ہے، اس ’نخل‘ کی نسبت سے اردو میں کھجور کا باغ ’نخلستان‘ اور فارسی میں ’نخل زار‘ کہلاتا ہے۔ جب کہ فارسی ہی میں اس باغ کو ’خُرما‘ کے تعلق سے ’خُرماستان‘ بھی کہتے ہیں۔ ھجور توڑنے کے لیے جس رَسی کی مدد سے درخت پر چڑھا جاتا ہے، اسے عربی میں ’سبب‘ کہتے ہیں جس کی جمع ’اسباب‘ ہے۔ اُردو نے ایک طرف ’سبب‘ کو وجہ، عِلّت، واسطہ، وسیلہ اور ذریعہ کے معنی میں برتا اور دوسری طرف اس کی جمع ’اسباب‘ کو بیان کردہ معنی کے علاوہ ’ساز و سامان‘ کے مفہوم میں استعمال کیا۔ اسے ’مال واسباب‘ کی ترکیب کے ساتھ مظفر وارثی کے شعر میں ملاحظہ کریں:
راستے کی تھکن بھی کاندھے پر
مال و اسباب کی طرح دیکھی
اہل لغت کے نزدیک نخلستان کی تعریف میں ریگستان سے گِھرا ایسا سرسبز و شاداب قطعۂ زمین بھی شامل ہے جس میں کنواں ہو یا چشمہ جاری ہو۔ چشمہ سے متعلق پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ اسے ’چشم‘ یعنی آنکھ سے نسبت ہے، چوں کہ ’چشم‘ کی طرح اس سے بھی پانی بہتا ہے اس لیے یہ ’چشمہ‘ کہلاتا ہے۔ ایک ’چشمہ‘ نظر اور دھوپ کا ہوتا ہے۔ اسے ’چشمہ‘ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ چشم (آنکھوں) پر لگایا جاتا ہے اور اس تعلق سے ’چشمہ‘ کہلاتا ہے۔ عربی میں آنکھ اور چشمہِ آب دونوں کو ’عین‘ کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ مشترکہ نام پانی کی مشترکہ نسبت کا نتیجہ ہے۔ پھر جس طرح فارسی کے چشم میں ’ہائے نسبتی‘ لگا کر چشم سے چشمہ بنا ایسے ہی عربی کے ’عین‘ میں ’کاف نسبتی‘ لگا کر عین سے ’عینک‘ بنا ہے۔اس سے پہلے کہ ’کاف نسبتی‘ اور ’ہائے نسبتی‘ کی وضاحت کی جائے، عینک کی رعایت سے انور مسعود کا پُرمزاح شعر ملاحظہ کریں:
نزدیک کی عینک سے اسے کیسے میں ڈھونڈوں
جو دور کی عینک ہے کہیں دور پڑی ہے
کسی اسم کی کسی شخص، چیز یا جگہ سے نسبت صفتِ نسبتی کہلاتی ہے، عربی و فارسی کے علاوہ ہندی کے زیر اثر اردو میں صفت نسبتی بنانے کے بہت سے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ’اسم‘ کے آخر میں ’کاف‘ یا ’ھا/ھ‘ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
مثلاً آپ ’کاف نسبتی‘ کو دَھم سے دھمک، پَل سے پَلک اور عین سے عینک میں دیکھ سکتے ہیں۔ جب کہ ’ہائے نسبتی‘ کو گند سے گندہ، بند سے بندہ اور چشم سے چشمہ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ ویسے ’چشمہ‘ میانوالی میں دریا سندھ کے کنارے ایک مقام کا نام بھی ہے۔ اس مقام پر بننے والا بیراج، ’چشمہ بیراج’‘ کے نام سے مشہور ہے۔ ممکن ہے کہ اس مقام پر کوئی ’چشمہ‘ ہو جس کی نسبت سے اس جگہ کا نام ’چشمہ‘ پڑ گیا۔ ویسے یہ کوئی انوکھی بات بھی نہیں کہ چترال میں ایک جگہ کا نام ’گرم چشمہ‘ ہے۔ یہ نام یہاں جاری گرم پانی کے چشمے کی نسبت سے ہے، مقامی افراد اس گرم چشمے کے پانی سے قہوہ وغیرہ بناتے اور ایندھن بچاتے ہیں۔ زمانہ قدیم ہی سے مختلف مقامات کے نام کسی نہ کسی نسبت سے رکھے جاتے رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ آغاز میں نام کچھ ہوتا ہے جو گزرتے زمانے کے ساتھ اس قدر بدل جاتا ہے کہ لوگ اصل نام بھول جاتے ہیں۔ آپ نے دہلی کے نزدیک ریاست ہریانہ کے مشہور شہر ’گُڑگاؤں‘ کا نام ضرور سنا ہوگا۔ پہلی بار جب یہ نام نظر سے گزرا تو خیال آیا کہ شاید یہاں دوسرے گاؤں دیہات کی نسبت زیادہ ’گُڑ‘ بنتا ہوگا اس لیے اس مقام کا نام ہی ’گُڑ گاؤں‘ پڑ گیا ہے۔ مگر بعد تحقیق کے معلوم ہوا کہ اول تو یہ اب ’گاؤں‘ نہیں رہا بلکہ شہر بن چکا ہے، ثانیاً یہ کہ اس کا اصل نام ’گرو گاؤں یا گرو گرام‘ یعنی گرو کا گاؤں تھا جو کثرت استعمال سے ’گڑگاؤں‘ ہوگیا ہے۔ پنجاب کا سرحدی شہر ’قصور‘ اپنی میتھی اور ملکہ ترنم کی وجہ سے مشہور ہے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ اس شہر کا اصل نام ’کسوپور‘ تھا جو امتدادِ زمانہ سے ’قصور‘ ہوگیا ہے۔ یہی کچھ مشہور تاریخی اور تہذیبی شہر ’لکھنؤ‘ کا معاملہ ہے، کہتے ہیں آغاز میں اس شہر کا نام ’لکھشمن‘ کے نام پر تھا۔ یہی ’لکھشمن‘ بدل کر ’لکھنؤ‘ ہوگیا، جب کہ ایک معروف محقق کے مطابق ’لکھنؤ‘ دراصل ’لچھمن پورہ‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ واضح رہے کہ لکھشمن اور لچھمن ایک ہی نام کی دوصورتیں ہیں۔دیگر شہروں اور قصبات کا ذکر کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتے ہیں فی الوقت ’لکھنؤ‘ کی رعایت سے اسرار الحق مجاز کا ایک پُرکیف شعر ملاحظہ کریں:
اب اس کے بعد صبح ہے اور صبح نو مجاز
ہم پر ہے ختم شامِ غریبانِ لکھنؤ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں