اوورسیز پاکستانیوں کی زیادہ شکایات اپنے رشتہ داروں کے خلاف کیوں؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بنائے گئے کمیشن کے مطابق سب سے زیادہ ایسے کیسز ہیں جن میں سمندر پار پاکستانیوں کو اپنے ہی رشتہ داروں سے شکایت ہوتی ہے۔ واقعہ ٹائم سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کمیشن کے سربراہ سید طارق محمود الحسن نے انکشاف کیا کہ ان کے پاس آنے والی 90 فیصد شکایات میں ملزمان بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اپنے رشتہ دار ہی ہوتے ہیں۔
سید طارق محمود الحسن حال میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن پنجاب کے نئے سربراہ تعینات کئے گئے ہیں۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ برطانیہ میں گزرا ہے اور انہوں نے گذشتہ ہفتے ہی محکمے کا چارج سنبھالا ہے۔ اپنے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس زیادہ تر شکایات میں اوورسیز پاکستانیوں کی ملک میں موجود جائیدادوں پر قبضے کی ہوتی ہیں۔‘ ’ان میں سے بھی 90 فیصد قبضے ان کے اپنے رشتہ داروں نے کیے ہوتے ہیں کیونکہ اور کوئی کر نہیں سکتا۔ وہ پیسے بھی انہی کو بھیجتے ہیں انہی کے ذریعے خریدوفروخت بھی کرتے ہیں۔‘ ’چونکہ عام طور پر لوگ اپنی خریدی ہوئی جائیدادوں کو اپنے والدین کے نام ہی لگواتے ہیں تو ان کی وفات کے بعد صورت حال بدل جاتی ہے۔‘ خیال رہے کہ پنجاب کا اوورسیز پاکستانیز کمیشن ملک کے کسی بھی صوبے کا واحد کمیشن ہے جو ایک ایکٹ کے تحت 2014 میں وجود میں آیا۔ اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات براہ راست درج کرواتے ہیں اور ان کی شکایات کے ازالے کے لیے ضلعی سطح تک طاقتور کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور ہر شکایت کے درج ہونے کے بعد ان کی کمپیوٹرائزڈ مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ سید طارق کہتے ہیں کہ ’یہ ایک افسوس ناک بات ہے کہ خون کے رشتے بھی اس صورت حال سے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم جب یہاں بیٹھ کر ان کی شکایات سنتے ہیں تو ایک طرح کا جھٹکا بھی لگتا ہے کہ اپنے لوگ ایسا بھی کر سکتے ہیں؟‘ ’قبضہ بھی انہی کے پاس ہوتا ہے اور چونکہ جائیداد رشتہ داروں میں اکٹھی ہوتی ہے۔ جو لوگ ملک میں ہوتے ہیں وہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اگر رشتہ دار قبضہ نہ بھی کریں تقسیم اس طرح کرتے ہیں کہ فرنٹ والی زمین خود رکھ لیتے ہیں پیچھے والی ان کو دیتے ہیں جس کی مالیت بہت کم ہوتی ہے۔‘ ’پھر جب یہ مسئلے ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم ان کو حل کرتے ہیں اور متعلقہ انتظامیہ سے کہتے ہیں کہ میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔‘ جب کمیشن کے سربراہ سید طارق محمود الحسن سے یہ پوچھا گیا کہ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں پر زیادہ تر ان کے قریبی رشتہ دار ہی قبضے کرتے ہیں؟ ان کا کہنا تھا ’بنیادی وجہ تو ظاہر ہے کہ لالچ ہی ہوتا ہے۔ وہ یہاں پر ہوتے ہیں اور سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہی پڑا ہوتا ہے۔‘ ’دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ مختار نامے اپنے رشتہ داروں کے نام ہی کرواتے ہیں کیوںکہ اگر کسی بھی وقت اس جائیداد کو فروخت کرنا ہو یا کسی اور جگہ منتقل کرنا ہو تو پاور آف اٹارنی جس کے نام ہوتی ہے وہ ہی یہ اس جگہ کو قانونی طور پر ادھر سے ادھر کرسکتا ہے۔‘ سید طارق محمود الحسن کے مطابق ’آپ باہر سے آکر خود خریدوفروخت کریں گے تو یہ الگ سے ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان جائیدادوں پر قبضے آسان ہوتے ہیں۔‘ ’قبضہ نہ بھی ہو تو اس نوعیت کے فراڈ ہوتے ہیں کہ آپ حیران رہ جاتے ہیں، اور یہ سب ان اجازت ناموں کے باعث ہوتا ہے جن کو قانونی طور پر پاور آف اٹارنی یا مختار نامہ کہا جاتا ہے۔‘ اوورسیز کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق اس کمیشن کے وجود میں آنے کے بعد سے آج تک سمندر پار پاکستانیوں نے کل 25 ہزار 879 شکایات درج کروائیں جن میں سے 16 ہزار 268 حل کی جا چکی ہیں۔ جو شکایات ابھی تک پراسیس میں ان میں سب سے زیادہ پراپرٹی سے متعلق ہیں جن کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہے، دوسرے نمبر پر پولیس سے متعلق شکایات ہیں جو کہ 4500 کے قریب ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں