اولمپکس کے کھلاڑی بھی حجامہ کے قائل

حجامہ یا کپنگ کو اسلامی طریقۂ علاج سمجھا جاتا ہے اور درد کے علاج کا ایک قدیم طریقہ ہے جس کا ذکر ایک بار پھر دنیا میں کھیلوں کے سب سے بڑے میلے یعنی ٹوکیو اولمپکس میں سنائی دے رہا ہے۔ 2016 میں ریو اولمپکس کے دوران بھی حجامہ کا کافی چرچا رہا تھا جب دنیا کے سب سے کامیاب تیراک امریکی ایتھلیٹ مائیکل فلپس نے عالمی ایونٹ کے دوران اس کا استعمال کیا تھا۔ مائیکل فلپس دنیا کی تاریخ کے کامیاب ترین اولمپیئن ہیں۔ انہوں نے سونے کے 23 تمغے جیتے ہیں جو عالمی ریکارڈ ہے۔ اس بار ٹوکیو میں آسٹریلوی سوئمنگ سٹار کائل چالمرز کے جسم پر کپنگ کے نشانات سے اس طریقہ علاج اور اس کی افادیت کے بارے میں ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔
گذشتہ سال کندھوں کی سرجری سے گزرنے والے کائل چالمرز نے اولمپکس کی تیاری کے لیے کافی محنت کی ہے اور تکلیف دہ مراحل سے گزرے ہیں۔ فلپس نے 2016 کے اولمپکس میں حجامہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں نے مقابلے سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے کپنگ کی ہے۔۔۔ کیوں کہ کل مجھے سخت ٹریننگ کے بعد تھکاوٹ کا سامنا تھا۔‘ خیال کیا جاتا ہے کہ کپنگ تھراپی کو چین میں صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں ویکیوم کا استعمال کرتے ہوئے گلاس کپ کو استعمال کرتے ہوئے جلد کے ذریعے ’خراب‘ خون جسم سے خارج کیا جاتا ہے۔ حجامہ کی دو اقسام ہیں، ویٹ کپنگ، جس کے ذریعے جسم سے خون نکلتا ہے، جب کہ دوسری قسم کو ڈرائی کپنگ کہتے ہیں جس کو جسم کو چھیدے بغیر انجام دیا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ایتھلیٹ دوسری قسم کی کپنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔
ویسے تو مذہبی یا سماجی طور پر حجامہ یا کپنگ کی افادیت اور اس کے کئی فوائد بیان کیے جاتے ہیں لیکن طبی سائنس کے نقطہ نظر سے کپنگ کے فوائد ثابت نہیں ہوئے۔ ’جرنل آف ٹریڈیشنل اینڈ کمپلیمنٹری میڈیسن‘ کے 2019 کے ایڈیشن میں شائع ہونے والے ایک مطالعے کے مطابق: ’کپنگ کے جسم پر مکمل اثرات کا پتہ لگانے کے لیے وسیع پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز، منظم جائزے اور میٹا اینالائسز کی ضرورت ہے۔‘ مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ’کپنگ تھراپی سے متعلق متنازع خیالات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ محض ایک پلیسیبو طریقہ علاج ہے۔‘مطالعے میں مزید کہا گیا: ’کپنگ تھراپی کے بارے میں یہ پلیسیبو تھیوری اس وقت تک قائم رہے گی جب تک کہ اس کے قابل اعتماد اور درست میکانزم کا پتہ نہ چل پائے۔‘ تحقیق کے مطابق مربوط شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کپنگ ایک منظم سطح پر آرام اور راحت کا احساس پیدا کر سکتی ہے اور ’اس کے نتیجے میں دماغ میں چند مخصوص اجزا کی پیداوار بڑھ جاتی ہے جو درد کے کنٹرول کو بہتر بناتا ہے۔‘ اس طرح کے ایک اور نظریے، جسے ’پین گیٹ تھیوری‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، کے مطاق درد کا احساس اس لیے کم ہو جاتا ہے کیوں کہ اس سے دماغ زخمی یا سٹیمولیٹڈ حصے کو حفاظتی سگنل واپس بھیج دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں