انیس سو ستر کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ان پر سوالات اٹھے ، وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں ، اپوزیشن کوسمندر پار پاکستانیوں کے ڈالر قبول ہیں، انہیں ووٹ کا حق دینا منظور نہیں ،شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ انتخابی قوانین میں ترمیم اور الیکٹرک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) متعارف کروا کے ہم ماضی کی کالک دھونا چاہتے ہیں، 1970ء کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ان پر سوالات اٹھے ، وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں اور ایسی قانون سازی کریں کہ ہمیشہ کے لئے آزادانہ، شفاف اور قابل اعتماد انتخابی نظام رائج ہو ، حکومت کی صفوں میں یکجہتی اور اتحادی ساتھ کھڑے ہیں، قانون سازی کے لئے تمام طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے، ای وی ایم مشین ان ناپاک ارادوں کو دفن کرنے کے لئے لائی جارہی ہے جو ماضی میں مسلط کئے جاتے تھے، آزادانہ، شفاف اور قابل اعتماد انتخابی نظام اپنانے جارہے ہیں، قائد حزب اختلاف د ہرا معیار نہ اپنائیں، سمندر پار پاکستانیوں کے ڈالر انہیں قبول ہیں، انہیں ووٹ کا حق دینا منظور نہیں، انتخابات کو چوری ہونے سے بچانے کے لئے تمام ارکان انتخابی قوانین میں ترمیم کے حق میں ووٹ دیں۔

بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایوان ایسی قانون سازی کرنے جارہا ہے جس سے ماضی کی خرابیاں اور قباحتیں ختم ہونگی اور شفاف انتخابی نظام ملک میں رائج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی کالا قانون مسلط نہیں کرنا چاہتی بلکہ ہم ماضی کی کالک دھونا چاہتے ہیں۔

آج ایک تاریخی دن ہے، 1970ء کے بعد جتنے بھی انتخابات ہوئے ان پر سوال اٹھایا گیا ۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی سمت درست کریں اور ایسی قانون سازی کریں کہ ہمیشہ کے لئے آزادانہ، شفاف اور قابل اعتماد انتخابی نظام رائج ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت نے ای وی ایم کے معاملے پر اپوزیشن سے پہلے بھی رابطہ کیا لیکن اپوزیشن نے کوئی توجہ نہ دی۔ مشترکہ اجلاس عجلت میں نہیں بلایاگیا، ہمارے پاس عددی اکثریت نہ ہوتی تو یہ اجلاس کیوں بلاتے، حکومت کی صفوں میں یکجہتی ہے اور اتحادی ساتھ کھڑے ہیں۔

قانون سازی کے لئے ایک مروجہ طریقہ کار ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔ کچھ ارکان نے تشنگی دور کرنے کے لئے وقت مانگا تھا ہم نے انہیں دلائل سے قائل کیا ہے اور وہ قائل ہو کر ہی آج ہماری صفوں میں بیٹھے ہیں۔ ای وی ایم مشین ان ناپاک ارادوں کو دفن کرنے کے لئے لائی جارہی ہے جو ماضی میں قوم پر مسلط کئے جاتے تھے۔ شفاف انتخابی نظام کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جارہا ہے۔ 1973ء کا آئین ایک مقدس امانت ہے، اس کی ہم پوری پوری حفاظت کریں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سے کہا گیا ہے کہ وہ پارٹی سے استعفیٰ دے دیں، آج ایک تاریخ رقم ہونے جارہی ہے اور شفاف انتخابی نظام کے لئے قانون سازی کی جارہی ہے، ایسا مطالبہ ہم نے تو سابق سپیکر ایاز صادق سے نہیں کیا تھا، قائد حزب اختلاف د ہرا معیار نہ اپنائیں۔ ملک میں انتخابی اصلاحات کی ہمیشہ سے ضرورت رہی ہے، 2013ء کے انتخابات کے بعد ہم نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس کے بعد جوڈیشل کمیشن قائم ہوا۔

ہم نے آپ کی طرح بائیکاٹ نہیں کیا تھا اور انتخابی اصلاحات کے لئے مشاورت میں آپ کے ساتھ بیٹھ کر حصہ لیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ریاست مدینہ کا تصور اور خواب ہر پاکستانی بچے بچے کے دل میں بستا ہے، یہ اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ دینے کی بات بھی کرتے ہیں اور اس کی مخالفت بھی کرتے ہیں،

سمندر پار پاکستانیوں کے ڈالر تو انہیں قبول ہیں لیکن ووٹ کا حق دینا اپوزیشن کو منظور نہیں، ہم اوورسیز پاکستانیوں کو ملکی پالیسیوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں، ایوان اگر یہ بل منظور کرلیتا ہے تو انہیں ووٹ کا حق دیا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے انتخابات کو چوری سے بچانا ہے۔ قائد حزب اختلاف اجلاس کو موخر کرنے کی تجویز دے رہے ہیں، اجلاس موخر کرنے کی بجائے شفاف انتخابی نظام کے لئے تمام ارکان کو ووٹ دینا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں