انگریزی اخبار میں شائع خبر عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انگریزی روزنامہ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے شائع خبر کو عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے میر شکیل الرحمن اور انصار عباسی سمیت فریقین کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری حکمنامے میں کہا گیا کہ رجسٹرار آفس نے انگریزی اخبار میں چھپنے والی خبر کی طرف توجہ دلائی جس میں یہ کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 2018 انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی۔ اس حوالے سے کہا گیا کہ انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر زیر التوا کیس سے متعلق ہے جس کی ڈویژن بینچ کو 17 نومبر 2021 کو سماعت کرنی ہے۔ عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت سے باہر کسی قسم کا ٹرائل عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف اور ایک جرم ہے۔ اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر بادی النظر میں زیر سماعت مقدمے کی عدالتی کارروائی پر اثر ہونے کی کوشش ہے اور سنگین نوعیت کی توہین عدالت ہے جبکہ یہ عدالت کو متنازع بنا کر انصاف کی فراہمی پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کے بھی مترادف ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری حکمنامے میں کہا کہ انصاف کی فراہمی میں شفافیت برقرار رکھنا عوام کے مفاد میں ہے اور بادی النظر میں مذکورہ رپورٹ آزاد عدلیہ اور اس کے ججوں پر عوام کے اعتماد پر اثرانداز ہونے کی کوشش نظر آتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے عدالت کے وقار کا تحفظ ناگزیر ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تنازعات کو شفاف اور کسی اثرورسوخ کے بغیر حل کیا جا سکے۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت میر شکیل الرحمٰن، عامر غوری، انصار عباسی اور سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا محمد شمیم کو کل ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتی ہے۔
اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ تمام فریقین پیش ہو کر بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے جبکہ اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل بھی کل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ کل ساڑھے 10 بجے کیس کی سماعت کریں گے۔

15 نومبر 2021 کو انگریزی روزنامہ ’دی نیوز‘ میں صحافی انصار عباسی کی خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی کہ ثاقب نثار نے 2018 انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی۔ انگریزی اخبار ’دی نیوز‘ میں صحافی انصار عباسی کی تحقیقاتی رپورٹ میں رانا شمیم کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ حلف نامے میں کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے جج کو کرپشن ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایات دیں۔ مبینہ حلف نامے میں رانا شمیم نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے ’بہت پریشان‘ دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا۔ رانا شمیم نے کہا کہ ثاقب نثار کا بالآخر جج سے رابطہ ہوگیا اور انہوں نے جج کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز انتخابات کے انعقاد تک لازمی طور پر جیل میں رہنا چاہیے، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پرسکون ہو گئے اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔ دستاویز کے مطابق اس موقع پر رانا شمیم نے ثاقب نثار کو بتایا نواز شریف کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے، جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ’رانا صاحب، پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے‘۔

سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو ’خود ساختہ کہانی‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے میاں صاحب کے معاملے کے حوالے سے کسی سے یا کسی جج سے کوئی بات نہیں کی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں رانا شمیم سے صرف وہ گفتگو یاد ہے جب انہوں نے انہیں ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے بلایا تھا۔ ثاقب نثار نے کہا کہ ’اس وقت انہوں نے اپنی مدت میں توسیع کے متعلق شکوہ کیا جبکہ ان کی ان دعوؤں کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے‘۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے ’بالکل بےبنیاد‘ ہیں۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملے پر عوامی سطح پر بیان جاری نہ کرنے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ ’میں کیوں کروں؟ میں اس حد تک گرنا نہیں چاہتا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں