انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت بڑھانے کی ضرورت ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ڈیجیٹل تعاون تنظیم کے وفد سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد۔: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی مؤثر پالیسی کی بدولت پاکستان کے آئی ٹی شعبہ نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،

ملک میں ورچوئل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کیلئے بھی اقدامات لئے جارہے ہیں، حکومت اور پارلیمنٹ کی ڈیجیٹائزیشن 2023 میں مکمل ہو گی جس سے کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیجیٹل تعاون تنظیم (ڈی سی او) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے سیکرٹری جنرل ڈی سی او دیمہ الیحیٰی کی قیادت میں جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔سیکرٹری آئی ٹی محمد سہیل راجپوت بھی اس موقع پر موجود تھے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کی مؤثر پالیسی کی وجہ سے پاکستانی آئی ٹی شعبے نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، آئی ٹی گریجویٹس کی تعداد بڑھانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ خواتین انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کا پروگرام ڈیجی اسکلز اب تک 10 لاکھ نوجوانوں کو تربیت فراہم کر چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں ورچوئل ایجوکیشن کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

صدرمملکت نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور ڈیجیٹل مہارت پیدا کرنے میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ حکومت اور پارلیمنٹ کی ڈیجیٹائزیشن 2023 میں مکمل ہو گی جس کے نتیجے میں کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ ڈی سی او ڈیجیٹل تعاون بڑھانے اور باہمی تجربات سے سیکھنے کیلئے بہترین پلیٹ فارم ہے۔ سیکرٹری جنرل ڈی سی او نے پاکستان کو تنظیم کس ممبر بننے پر مبارکباد دی اور کہا کہ ڈی سی او پاکستان کو آئی ٹی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے دلکش ملک کے طور پر پیش کرے گی ،

سیکرٹری جنرل ڈی سی اونے کہا کہ ڈیجیٹل تعاون تنظیم پاکستان کو کلاؤڈ سروسز کی فراہمی کرنے والے ملک کے طور پراجاگر کرے گی اور خواتین اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کیلئے کام کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی سی او خواتین، نوجوانوں کوملازمتیں تلاش کرنے کی بجائےملازمتیں پیدا کرنے کے قابل بنانے کیلئے کاوشیں کرے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں