انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مشال خان قتل کیس کا فیصلہ سنادیا

رسائی نیوزنمائندہ خصوصی پشاور:عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں قتل ہونے والے مشال خان کے کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا، انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 12 مارچ کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا جس میں 2 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جب کہ 2 ملزمان کو بری کردیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کونسلر عارف اور اسد کو عمر قید کی سزا سنائی اور ملزم صابر مایار اور اظہار کو بری کردیا۔ اس سے قبل 4 سال قید کی سزا پانے والے ملزموں کو پشاور ہائی کورٹ نے ضمانت پر رہا کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ مشال خان قتل کیس میں مجموعی طور پر 61 ملزموں کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں مرکزی ملزم عمران کو 2 بار سزائے موت، 5 ملزمان کو 25 سال قید جب کہ 25 ملزمان کو 4 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور کیس میں 26 ملزموں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ یاد رہے 13 اپریل 2017 کو عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔ مشال کے والد محمد اقبال کی درخواست پر مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت ایبٹ آباد منتقل کیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں