انجینئرنگ جامعات کا نصاب صنعتکاروں کی مشاورت سے بنایاجائے

دنیا فورم میں یہ سن کر افسوس ہوا کہ ہمارے ایک لاکھ سے زائد انجینئرز بیروزگار ہیں،حتیٰ کہ بیروزگاری سے تنگ آکر دکان کھولنے اور ٹھیلہ تک لگانے پر مجبور ہیں،ماضی میں تو ایسا بھی ہواکہ اعلیٰ اور نامور یونیورسٹیوں سے انجینئرنگ کی ڈگری لینے والے نوجوان بیروزگاری سے تنگ آکر جرائم تک میں ملوث ہو گئے۔ سوال یہ ہے کہ ایسے ذہین افراد کیوں ضائع ہورہے ہیں؟بس یہی سوال تھا کہ جس نے ہمیں انجینئرز کیساتھ بٹھادیا ،محمد علی جناح یونیورسٹی میں ہونے والے دنیا فورم میں ملک کے نامور اداروں سے وابستہ انجینئرز نے جہاں مسائل کی نشاندہی کی وہیں حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔جبکہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کی بھی کارکردگی بہتر بنانے پر زور دیا۔واضح رہے کہ 8اگست کو پاکستا ن انجینئرنگ کونسل کے الیکشن بھی ہونے جارہے ہیں ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا یہ اہم ادارہ ایسے افراد لانے میں کامیاب ہوجائے گا جو انجینئرز کے مسائل حل کرنے میں واقعی دلچسپی رکھتے ہوں۔کیا حکومت انجینئرز کے مسائل کو سمجھتے ہوئے کوئی سنجیدہ اقدام اٹھائے گی؟ہماری تو پارلیمنٹ میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی کمی ہے وہ انجینئرز کی بات کیا کریں گے، جامعات اور صنعتوں کو بھی فاصلے ختم کرنے پر زور دینا ہوگا،دنیا فورم میں نہایت اہم مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کی تجاویز پیش کی گئیں جویقیناً انجینئرز اور طلباء کے لئے مفید ہونگی۔آپ کی رائے کا انتظار رہے گا۔

ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد انجینئرز بیروزگار ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں ۔ہمارے انجینئرز اپنی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں کرتے جبکہ انہیں خود کو پیش کرنا بھی نہیں آتا۔ انہیں باقاعدہ تربیت کی ضرورت ہے۔ انجینئرز کو مستقبل کے حوالے سے تربیت اور آگہی نہیں ہوتی نہ ہی سمت کا صحیح معلوم ہوتا ہے۔ انجینئرز کو صنعتی معاونت بھی حاصل نہیں ۔ہماری صنعت کبھی اوپر جاتی ہے توکبھی نیچے آجاتی ہیں جس سے سرمایہ داروں کا اعتمادکم ہوتاہے ۔چھوٹی انڈسٹریز پروان نہیں چڑھ رہی ۔پاکستان انجینئرنگ کونسل کردار ادا کرے توانجینئرز کے مسائل اور بے روزگار ی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔ہمیں ایسے ماڈل بنانے ہوں گے جو مارکیٹ کی ضرورت ہوں۔پاکستان انجینئرنگ کونسل میں Right people Right Jobوالے لوگ ہی نہیں۔پی ای سی جیسے ادارے قانون بناتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہورہا۔نوجوان انجینئرز بھی اچھے لوگوں کو دیکھیں اور ان کو سامنے لے کر آئیں۔اس قسم کے فورم ہوتے رہنے چا ہیئیں تاکہ نوجوانوں کے مسائل حل ہوںاورانہیں آگہی بھی ہو۔طلباء کیلئے تربیتی پروگرام بھی ہونے چاہییں،تعلیمی اداروں اور صنعتوں کے درمیان فاصلے ختم کئے جائیں۔انجینئرز کے مسائل کے حل کیلئے جامع فورمز بنائے جائیں۔ 4سال کی ڈگری میں3 سال پڑھایا جائے اور آخری سال انڈسٹری سے جوڑ کر عملی تربیت اورانٹرن شپ بھی کرائی جائے اس سے طلباء میں قابلیت سامنے آئے گی اور بے روزگاری کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔ کارپوریٹ سوشل ریسپانسپلٹی جو انڈسٹری کے پاس فنڈ ہوتا ہے اسے استعمال کیا جائے۔پی ای سی اپنے فنڈسے بھی انٹرن شپ کراسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں