امیرِ طالبان نے گورنرز سمیت 44 اہم عہدوں پر تقرریاں کردیں

کابل: امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ کی ہدایت پر ملک بھر میں مختلف صوبوں کے گورنرز اور کابل پولیس چیف سمیت اہم عہدوں پر تقرریاں کردی گئی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت نے افغانستان کے مختلف صوبوں میں گورنرز، ملٹری کمانڈرز، پولیس چیف اور اہم سیکیورٹی عہدوں پر 44 ارکان کی تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔ مقرر کیے گئے تمام افراد کا تعلق تحریک طالبان سے ہے۔ ان تقرریوں کا مقصد داعش خراسان کی جانب سے ملک میں پے در پے حملوں کے باعث حکومت کو درپیش سیکیورٹی مسائل سے نبرد آزما ہونا ہے۔
ملٹری اسپتال میں داعش کے حملے میں جاں بحق ہونے والے کابل کے سیکیورٹی انچارج مولوی حمد اللہ مخلص کی جگہ بھی تقرری کردی گئی۔

اس حوالے سے ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ قاری بریال کو کابل کا گورنر، مفتی ادریس کو ڈپٹی گورنر اور ولی جان حمزہ کو دارالحکومت کا ملٹری کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں امیر طالبان کی ہدایت پر وزیراعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عبدالغنی کو بدخشاں کا گورنر، محمد علی کو پکتیا، نثار احمد کو قندوز، قاری بختیار کو بغلان، حاجی مالی خان کو لوگر، عبداللہ مختار پکتیکا، عبداللہ سہروردی بامیان، حاجی دعوت اورزگان، روحانی صاحب فراہ، عبدالرحمان سرائے پل، محمد شعیب جوزجان اور اسحاق اخوندزادہ کو غزنی کا گورنر مقرر کیا گیا ہے۔

اگست کے وسط میں افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے مرکزی کابینہ میں بھی دیگر قوم، طبقے کے نمائندے اور خواتین کو شامل نہیں کیا گیا تھا اور اب صوبائی سطح پر کئی گئی تقرریوں میں بھی انھیں کوئی جگہ نہیں دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں