امریکی افواج کا ساتھ دینے والے دو سو افغان امریکا پہنچ گئے

افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد امکان ہے کہ طالبان جنگجو ایسے مقامی افغان شہریوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیں، جنہوں نے امریکی اور غیر ملکی افواج کے لیے کام کیا ہو۔ اسی لیے ایسے افغانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر انہیں امریکا منتقل کرنے کی اسکیم بنائی گئی تھی۔ اسی اسکیم کے تحت ان افغانوں کو امریکا لایا گیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق افغانستان میں امریکی فوج کے لیے بطور مترجم کام کرنے والے اور سفارتکاروں کو دیگر انتظامی تعاون فراہم کرنے والے افغان شہری اور ان کے کنبوں کو امریکا لایا گیا ہے۔ اسپیشل ویزہ پروگرام کے تحت امریکا پہنچنے والے ان دو سو اکیس افغانوں میں ستاون بچے اور پندرہ نومولود بھی شامل ہیں۔ فلائٹ اویئر نامی ہوائی کمپنی نے بتایا ہے کہ یہ افغان شہری جمعے کے صبح واشنگٹن ڈی سی کے نواح میں واقع ڈلس پہنچے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ان افغانوں کو خوش آمدید کہتے ان کی امریکا آمد کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ افغانستان میں امریکی افواج اور سفارتکاروں کے ساتھ مل کر بیس برس تک کام کرنے والے افغانوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔ جو بائیڈن کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا، ”میں امریکا کا ساتھ دینے والے بہادر افغانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، آج میں ان کی امریکا آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں۔” امریکی افواج اور سفارتکاروں کو تعاون فراہم کرنے والے افغان شہریوں اور ان کے کنبوں کو امریکا میں آباد کرنے کے منصوبے کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ ڈیموکریٹ سیاستدانوں کے علاوہ ریپبلکن قانون سازوں نے بھی اس منصوبے کی ستائش کی ہے۔ جمعرات کے دن ہی کانگریس نے افغان ویزا پروگرام کا قانون قطعی اکثریت سے منظور کیا، جس کے تحت آٹھ ہزار اضافی ویزے جاری کیے جائیں گے جبکہ ان افغانوں کو امریکا میں بسانے کی خاطر پانچ سو ملین ڈالرز کا فنڈ مختص کیا جائے گا۔ اس سے قبل تقریبا ستر ہزار افغان پہلے ہی امریکا میں آباد کیے جا چکے ہیں۔ یہ افغان باشندے سن دو ہزار آٹھ سے امریکا آنا شروع ہوئے تھے۔ پروگرام کے تحت مزید سات سو افغان خصوصی ویزا پروگرام کے تحت جلد ہی امریکا پہنچ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں